زرداری کو بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو پنجاب پولیس نے دوسرے اعلیٰ رہنماؤں سمیت حراست میں لے لیا اور بعد میں انہیں ان کے گھر بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جیسے ہی آصف زرداری کا طیارہ لاہور پہنچا ایس ایس پی لاہور آفتاب چیمہ کی قیادت میں پولیس کی ایک پارٹی نے طیارے میں داخل ہو کر آصف زرداری، مخدوم امین فہیم اور سینیٹر خواجہ اکبر سمیت طیارے میں بیٹھے پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے فوٹوگرافروں اور صحافیوں کو بھی کام کرنے سے منع کر دیا اور ان کے کیمرے اور ٹیپ ریکارڈر چھین لیے جو بعد میں واپس کر دیے گئے ۔ اطلاعات کے مطابق سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے صحافیوں کو زدوکوب بھی کیا۔ پولیس نے صحافیوں کو کہا کہ ان کے کیمرے سکیننگ کے لیے بھیجے گئے ہیں اور جب سکین ہو کر واپس آجائیں گے تو ان کو مل جائیں گے۔ صحافی اس بات پر ائیرپورٹ کے گیٹ نمبر 22 کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ تاہم کیمرے واپس ہوجانے پر اخبار نویسوں نے احتجاج ختم کر دیا۔ بعد میں آصف زرداری کو ان کے گھر بلاول ہاؤس پہنچا دیا گیا اور گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق لاہور میں مصطفیٰ کھر، اعتزاز احسن اور شیری رحمان کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اس سے قبل دبئی سے روانگی کے وقت طیارے کے اندر سے بی بی سی اردو سروس کو انٹرویودیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے پورے پاکستان سے پیپلز پارٹی کے تقریباً ستر ہزار کے قریب کارکن گرفتار کر لیے ہیں اور انہیں ملک کی مختلف جیلوں میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بند نہیں ہوا بلکہ اب تو جیلوں میں بھی جگہ نہیں رہا گئی ہے۔ انہوں نے کہا پارٹی کے حکومت سے ڈائیلاگ جاری ہیں لیکن پھر بھی حکومت میں کئی ایسے عناصر ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ جمہوری طاقتوں کو کامیابی ہو۔ انہیں نے پرواز میں تاخیر کے متعلق کہا کہ ’یہ جمہوریت کا قافلہ ہے ذرا آرام سے چلے گا‘۔ دریں اثناء لاہور میں پولیس نے پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت کو حراست میں لے لیا ہے جن میں پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قاسم ضیا، پارٹی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر، سندھ میں پارٹی کے رہنما قائم علی شاہ، لاہور کے صدر عزیزالرحمن چن اور دیگر افراد شامل ہیں۔ ان رہنماؤں کو ڈیفنس میں ایک گھر سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک اجلاس کررہے تھے۔ انہیں پہلے ڈیفنس تھانے میں اور بعد میں کینٹ سرور روڈ کے تھانہ میں دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کے الزام میں حوالات میں بند کر دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل الطاف قریشی نے کہا کہ لیڈر زرداری کے استقبال کے لیے نہ بھی پہنچ سکیں تو کارکن ضرور پہنچیں گے۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی گرفتاری کا سلسلہ بھی جمعہ کی رات گئے تک جاری رہا۔ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے دفتر سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے لوگ جلوس نکال کر اس عمل کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں جس نے ملک کو ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کیا ہے۔ پنجاب حکومت کے وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کا ہزاروں افراد کی گرفتاری کا دعویٰ بھی غلط ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||