آصف زرداری پر پابندیاں ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب پولیس نے آصف زرداری کےگھر کامحاصرہ ختم کردیا ہے اور ان پرعائد غیر اعلانیہ پابندیاں اٹھا لی ہیں۔ سابق وزیر اعظم کے شوہر کو دوبئی سے لاہور پہنچنے پر پولیس نے ان کو گھر میں نظر بند کر دیا تھا۔ وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کی پریس کانفرنس سے صرف پندرہ منٹ پہلے پنجاب پولیس کو بلاول ہاؤس پر سے ہٹا لیا گیا۔ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے کہا کہ حکومت نے آصف زرادی گرفتار نہیں ہیں اور ان کے داتا دربار جانے یا کسی سے بھی ملنے پرپابندی نہیں ہے۔ اس سے پہلے جب آصف زرداری کو صبح ائیر پورٹ سے لاہور کے بلاول ہاؤس پہنچایا گیا تو پولیس کی بھاری نفری نے اسے گھیرے میں لےلیا تھا اور بلاول ہاؤس سمیت اس کے اردگرد تقریباً ایک ڈیڑھ فرلانگ کے علاقے میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں تھی اس دوران جو کارکن بلاول ہاؤس پہنچنے کی کوشش کرتے انہیں گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ لاہور کے بلاول ہاؤس کے نزدیک سے گرفتار ہونے والوں میں آفتاب شعبان میرانی اور سنیٹر لطیف کھوسہ بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر موجود ان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ’ آصف زداری حبس بےجا میں ہیں اور خود انہیں بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ آصف زرداری اپنی ناجائز حراست اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرنا چاہتے ہیں لیکن پولیس ان کے وکیل کو بھی ملنے نہیں دے رہی جو آئین کی خلاف ورزی ہے ۔‘ پولیس کا گھیرا کئی گھنٹے تک جاری رہا لیکن سہ پہر دو بجکر پچپن منٹ پر پہلے اچانک ائیر پورٹ چوک پر لگا پولیس ناکہ ختم کردیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندؤں کو آصف زرداری کی ہنگامی پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے بلاول ہاؤس میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی آصف زرداری کا خطاب جاری تھا کہ سواتین بجے بلاول ہاؤس کے ارد گرد سے پولیس کا پہرا اٹھا لیا گیا۔ آصف زرداری نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں حبس بے جا میں رکھا گیا اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو بلا جواز گرفتار کیا گیا انہوں نے کہا کہ وہ اس ریاستی تشدد کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کریں گے ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی نظر بند ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آج ہی داتا دربار ضرور جائیں گے۔ بلاول ہاؤس کے گرد پہرا ختم ہونے کے صرف پندرہ منٹ بعد وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ آصف زرداری کے کہیں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور اگر وہ داتا دربار جانا چاہتے ہیں تو شوق سے جاکر نماز ادا کریں تاہم وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ وہ جلوس نکالنے کی روایت کو ختم کرکے سیاسی کلچر کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اس لیے کسی کو جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے اسیران کو رہا کر دیا جائے گا لیکن سوا چھ بجے آصف زرداری نے ایک اور پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کے کسی کارکن کو رہا نہیں کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||