BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وردی اتارو ورنہ تحریک چلے گی‘

احتجاجی تحریک چلانے پر حزب اختلاف کی تمام جماعتیں
احتجاجی تحریک چلانے پر حزب اختلاف کی تمام جماعتیں متفق ہیں
پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اکتیس دسمبر تک اگر صدر جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف اور صدر کے دو عہدوں میں سے ایک نہیں چھوڑا تو ان کے خلاف ملک بھر میں بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔

جمعرات کے روز پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ مقررہ مدت تک صدر کا وردی نہ ارتارنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت حزب اختلاف کے اتحاد’اے آر ڈی، کے پلیٹ فارم سے مشاورت کے بعد تمام جماعتوں سے رابطے کرے گی۔

چودھری نثار علی خان نے کہا کہ ملک بھر کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں، وکلا اور صحافیوں کی تنظیموں، این جی اوز اور دانشوروں سے رابطہ کرکے کل جماعتی کانفرنس کی طرز پر سب کو متحد کرکے تحریک کی حکمت عملی وضح کی جائےگی۔

ان کا دعویٰ تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کا وردی میں رہنا ملک کے لیے ضروری نہیں اس لیے صدر کو قوم سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔

حکمران مسلم لیگ کی جانب سے پنجاب کی صوبائی اسمبلی سے جنرل پرویز مشرف کے وردی میں رہنے کی قرارداد منظور کرانے کے فیصلے پر انہوں نے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایسا کیا گیا تو ملک میں غلط روایت پڑے گی۔

ایسی روایت کے بعد آئندہ کور کمانڈر کو گورنر بنانے یا ان کی مدت ملازمت میں اصافے کی بھی قراردادیں آنا شروع ہوجائیں گی جو جمہوری نظام کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما نے بتایا کے وردی کے معاملے پر جلد مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لیے ’اے آرڈی‘ کا اجلاس بلایا جارہا ہے۔

حزب اختلاف کا ایک اور اتحاد متحدہ مجلس عمل پہلے ہی وردی نہ اتارنے کی صورت میں تحریک چلانے کا اعلان کر چکا ہے۔ جبکہ اس مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے مرکزی رہنما مولانا فضل الرحمٰن حکومت سے وردی کے معاملے پر مذاکرات بھی نہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے نمائندوں اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان گزشتہ دسمبر میں ہونے والے ایک سمجھوتے کے نتیجے میں سترویں آئینی ترمیم بل پارلیمینٹ سے منظور کیا گیا تھا۔ اس بل کے ذریعے صدر کی جانب سے آئین و قوانین میں کی جانے والی تمام ترامیم کو آئینی حیثیت مل گئی تھی۔

سمجھوتے کے بعد صدر نے سرکاری ٹی وی چینل کے ذریعے قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ دسمبر دو ہزار چار تک آرمی چیف اور صدر مملکت کے دونوں عہدوں میں سے ایک چھوڑ دیں گے۔ لیکن اب جیسے جیسے وقت قریب آرہا ہے تو صدر مشرف نے دعوے کرنا شروع کیے ہیں کہ چھیانوے فیصد عوام چاہتے ہیں کہ وہ وردی نہ اتاریں۔

صدر کے ایسے بیانات کے بعد ملک میں ایک بار پھر وردی کے متعلق بحث چل پڑی ہے۔حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتیں صدر سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ وردی نہ اتاریں جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں وردی نہ اتارنے کی صورت میں تحریک کی دھمکیاں دے رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد