فوج توڑنا ملک توڑنا ہوگا: زرداری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلزپارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ فوج پاکستان کا ایک ادارہ ہے اور جو اسے توڑنا چاہتے ہیں وہ ملک کو توڑنا چاہتے ہیں۔ آصف علی زرداری آج پیپلزپارٹی پنجاب کے دفتر میں پارٹی کے ایک اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ایک روز پہلے زرداری نے کہا تھا کہ وہ فوجی اسٹیبلیشمینٹ سے ہر سطح پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے نزدیک اسٹیبلیشمینٹ افراد کا ایک گروہ ہے جو فوج، عدلیہ، سیاستدانوں اور پریس میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلیشمینٹ مضبوط ہورہی ہے لیکن اُن کاخیال ہے کہ یہ کمزور ہورہی ہے کیونکہ دنیا میں نیو ورلڈ آرڈر جمہوریت کا ہے اور اب دنیا کے ان ملکوں میں بھی جمہوریت کی بات ہورہی ہے اور اس کا عمل شروع ہوگیا ہے جہاں پہلے اس کا نام بھی نہیں لیا جاتا تھا۔ آصف زرداری نے صدر جنرل پرویز مشرف کی آئینی حیثیت کے بارے میں سوال کو براہ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ اس بارے میں ان کا وہی موقف ہے جو پارٹی کا ہے۔ آصف زرداری نے متحدہ مجلس عمل پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اس نے سترہویں آئینی ترمیم پر ووٹ دے کر جمہوریت کو دفن کردیا اور اب کہتے ہیں ہم نے غلطی کی تھی۔ زرداری نے کہا کہ مجلس عمل ایک انتہا پسند سوچ اور طاقت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ مجلس عمل کے پاس ایک طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجلس عمل کے انتہا پسند راستے پر نہ خود چلنا چاہتے ہیں اور نہ چاہیں گے کہ ان کا بیٹا چلے۔ زرداری نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ان کے دوست ہیں لیکن ان دونوں کے خیالات متضاد ہیں اور دونوں کی پارٹیوں کے خیالات میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ آصف علی زرداری نے سولہ اپریل کو لاہور میں آنے کے بعد سے اب تک پنجاب حکومت اور متحدہ مجلس عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور بار بار اسٹیبلیشمینٹ سے ڈائیلاگ کرنے کی بات کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||