صحافیوں سے تشدد پر احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں صحافیوں نے سولہ اپریل کو پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری کے ہمراہ دوبئی سے لاہور تک سفر کرنے والے صحافیوں پر پنجاب پولیس کے تشدد کے خلاف پیر کی شب قومی اسمبلی کے اجلاس کا اس وقت تک بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے جب تک ایوان پنجاب حکومت کے ایما پر پولیس کے اس ناروا سلوک کے خلاف قرارداد مذمت منظور نہیں کرتا۔ آج جب اجلاس شروع ہوا تو صحافیوں نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا اور صحافیوں کے لئے مخصوص ملحقہ کمرے میں جمع ہو کر ایک قرارداد منظور کی گئ جس میں کہا گیا کہ سولہ اپریل کو صحافیوں پر بدترین تشدد کیا گیا اور صحافیوں کو پیٹا گیا اور ان سے ان کے موبائل فون، کیمرے اور ٹیپ ریکارڈر چھینے گئے۔ دی نیوز اخبار کے رپورٹر رؤف کلاسرا نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی آصف زرداری لاہور پہنچے تو پولیس اہلکار ان کو طیارے سے باہر لے گئے اور اس کے بعد صحافیوں کو پولیس کمانڈوز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ ان کے مطابق جنگ اخبار کے رپورٹر مظہر طفیل، جناح اخبار کے ایڈیٹر ودود قریشی اور بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کو کمانڈوز نے مارا اور دیگر صحافیوں کو دھکے دیتے اور مارتے ہوئے طیارے سے باہر لے گئے۔ اس سے قبل صحافیوں سے ان کے موبائل فون، کیمرے اور ٹیپ ریکارڈر چھینے گئے جو ان میں سے فلمیں، تصاویر اور انٹرویو وغیرہ نکالنے کے گھنٹوں بعد واپس کئے گئے۔ اس موقع پر صحافیوں نے ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ وہ اس وقت تک قومی اسمبلی کی کارروائی کی رپورٹنگ نہیں کریں گے جب تک قومی اسمبلی کے اراکین ایک قرارداد منظور نہیں کرتے جس میں پنجاب حکومت کے رویئے کی مذمت اور اس میں ملوث دو پولیس افسران ایس ایس پی آپریشن لاہور آفتاب چیمہ اور ایس پی سیکیورٹی مبین زیدی کی معطلی کا مطالبہ کیا۔ صحافیوں کے بائیکاٹ کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین نے کئی حکومتی وزرا کو صحافیوں کو ان کا بائیکاٹ ختم کرنے کے لئے بھیجا مگر صحافیوں کا مؤقف تھا کہ وہ اس وقت تک یہ بائیکاٹ ختم نہیں کریں گے جب تک ایوان میں مذکورہ قرارداد منظور نہیں ہو جاتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||