BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 April, 2005, 19:00 GMT 00:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں سے تشدد پر احتجاج

News image
اسلام آباد میں صحافیوں نے سولہ اپریل کو پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری کے ہمراہ دوبئی سے لاہور تک سفر کرنے والے صحافیوں پر پنجاب پولیس کے تشدد کے خلاف پیر کی شب قومی اسمبلی کے اجلاس کا اس وقت تک بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے جب تک ایوان پنجاب حکومت کے ایما پر پولیس کے اس ناروا سلوک کے خلاف قرارداد مذمت منظور نہیں کرتا۔

آج جب اجلاس شروع ہوا تو صحافیوں نے پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا اور صحافیوں کے لئے مخصوص ملحقہ کمرے میں جمع ہو کر ایک قرارداد منظور کی گئ جس میں کہا گیا کہ سولہ اپریل کو صحافیوں پر بدترین تشدد کیا گیا اور صحافیوں کو پیٹا گیا اور ان سے ان کے موبائل فون، کیمرے اور ٹیپ ریکارڈر چھینے گئے۔

دی نیوز اخبار کے رپورٹر رؤف کلاسرا نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی آصف زرداری لاہور پہنچے تو پولیس اہلکار ان کو طیارے سے باہر لے گئے اور اس کے بعد صحافیوں کو پولیس کمانڈوز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

ان کے مطابق جنگ اخبار کے رپورٹر مظہر طفیل، جناح اخبار کے ایڈیٹر ودود قریشی اور بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کو کمانڈوز نے مارا اور دیگر صحافیوں کو دھکے دیتے اور مارتے ہوئے طیارے سے باہر لے گئے۔

اس سے قبل صحافیوں سے ان کے موبائل فون، کیمرے اور ٹیپ ریکارڈر چھینے گئے جو ان میں سے فلمیں، تصاویر اور انٹرویو وغیرہ نکالنے کے گھنٹوں بعد واپس کئے گئے۔

اس موقع پر صحافیوں نے ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا کہ وہ اس وقت تک قومی اسمبلی کی کارروائی کی رپورٹنگ نہیں کریں گے جب تک قومی اسمبلی کے اراکین ایک قرارداد منظور نہیں کرتے جس میں پنجاب حکومت کے رویئے کی مذمت اور اس میں ملوث دو پولیس افسران ایس ایس پی آپریشن لاہور آفتاب چیمہ اور ایس پی سیکیورٹی مبین زیدی کی معطلی کا مطالبہ کیا۔

صحافیوں کے بائیکاٹ کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر چوہدری امیر حسین نے کئی حکومتی وزرا کو صحافیوں کو ان کا بائیکاٹ ختم کرنے کے لئے بھیجا مگر صحافیوں کا مؤقف تھا کہ وہ اس وقت تک یہ بائیکاٹ ختم نہیں کریں گے جب تک ایوان میں مذکورہ قرارداد منظور نہیں ہو جاتی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد