سینیٹ میں واک آؤٹ کا دِن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کے روز پاکستان کے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ سے حزب مخالف اور حکومتی اراکین نے ایک دوسرے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیے۔ حزب مخالف کی درخواست پر بلائے گئے اجلاس میں قوائد معطل کرکے جب ملک کی سیاسی صورتحال پر بحث کی جارہی تھی تو سولہ اپریل کو لاہور میں آصف علی زرداری کے استقبال سے روکنے کے لیے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاری اور صحافیوں کی مارکٹائی کے خلاف حزب اختلاف نے علامتی واک آؤٹ کیا۔ جس پر حکومتی رُکن کامل علی آغا اور دیگر نے احتجاج کیا کہ اجلاس بھی حزب مخالف نے طلب کیا ہے اور واک آؤٹ بھی وہ ہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے حزب مخالف پر غیر سنجیدہ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا اور بیشتر حکومتی سینیٹرز نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ پاکستانی پارلیمان کے دونوں ایوانوں چاہے وہ سینیٹ ہو یا قومی اسمبلی، حزب اختلاف والے تو اکثر واک آؤٹ کرتے ہیں لیکن ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ حکومت والے بھی واک آؤٹ کریں۔ قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین سینیٹ رضا ربانی، صفدر عباسی اور اکبر خواجہ نے لاہور میں پولیس حراست میں رکھنے کے خلاف تحاریک استحقاق پیش کیں جن کی حکومت نے مخالفت نہیں کی اور چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے یہ تحاریک ایوان کی استحقاق کمیٹی کے سپرد کردیں۔ پختونخواہ مِلی عوامی پارٹی کے سینیٹر رضا محمد رضا نے قوم پرست جماعتوں کے اتحاد ’پونم‘ کی جانب سے اکتیس مارچ کو اپنی ہڑتال کی اپیل کے موقع پر پشاور میں پولیس تشدد کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی جو بھی کمیٹی کے سپرد کردی گئی۔ سینیٹر ثناء اللہ بلوچ نے بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کے مبینہ تشدد کے واقعات اور بلوچوں کے احساس محرومی کا ذکر کیا اور صوبے کے معدنیات پر صوبائی حق تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سولہ اپریل کو لاہور میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ آصف زرداری کوئی خمینی نہیں تھے جو ان کے آنے سے انقلاب آجاتا۔ حزب اختلاف کے اراکین نے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے پر سخت احتجاج کیا اور حکومت پر کڑی نکتہ چینی کی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی نے سولہ اپریل کے واقعات، قوم پرست جماعتوں کے اراکین نے مارچ کے آخر میں مہنگائی کے خلاف اپنی ہڑتال کی اپیل کے موقع پر مبینہ پولیس تشدد اور متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے دو اپریل کو ان کی ہڑتال کے موقع پر گرفتاریوں اور تشدد کا معاملہ اٹھایا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے وزیر بابرغوری نے مجلس عمل پر تنقید کی کہ وہ دو صوبوں میں حکومت میں شامل ہیں اور دوسری جانب مہنگائی کے خلاف ہڑتال کر رہے۔ ان کے مطابق یہ ان کا دوہرا رویہ ہے۔ حکمران مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین نے کہا کہ ان کی حکومت ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ ’ڈائیلاگ اور ڈبیٹ‘ کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان سے زیادتیاں ہوئی ہیں لیکن دوسروں کے گناہوں پر صدر جنرل پرویز مشرف نے معافی مانگی ہے اور اب ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں۔ مشاہد حسین نے صدر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ بنگلہ دیش میں بھی فوجی زیادتیوں پر جنرل پرویز مشرف نے معافی مانگ کر بڑے پن کا ثبوت دیا تھا۔ سینیٹ میں اس دوران قائد حزب اختلاف رضا ربانی نے نیا پارلیمانی سال شروع ہونے کے باوجود بھی آئینی تقاضے کے مطابق صدر کی جانب سے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب نہ کرنے کا معاملہ اٹھایا اور صدر پر آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے بتایا کہ اٹھارہ مارچ کو جب قومی اسمبلی میں سید نوید قمر نے یہ سوال اٹھایا تھا تو پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے کہا تھا کہ آئندہ سینیٹ کے اجلاس سے قبل صدر خطاب کرلیں گے اور اگر ایسا نہیں کیا تو صدر آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔ پارلیمانی امور کے وزیر نے کہا کہ سینیٹ کا رواں سیشن حزب مخالف نے طلب کیا ہے اور حکومت جب بھی سینیٹ کا اجلاس بلائے گی اس سے قبل صدر خطاب کریں گے اور ان پر آئین کی خلاف ورزی کا الزام بے بنیاد ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||