اپوزیشن کا ایک اور واک آؤٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ میں حزب اختلاف نے سول بیوروکریسی کے سینئر ترین گریڈ بائیس کی نشستوں میں چھوٹے صوبوں کی کم نمائندگی کے خلاف واک آؤٹ کیا۔ وفاقی حکومت نے بدھ کو سینیٹ میں گریڈ بائیس کے افسران کی ایک فہرست پیش کی جس کے مطابق ملک میں گریڈ بائیس کے تینتالیس افسران کام کر رہے ہیں جس میں سے ستائیس کا تعلق پنجاب، دو کا بلوچستان، چھ کا سندھ اور آٹھ کا صوبہ سرحد سے ہے۔ اپوزیشن کے احتجاج پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی معاملات ڈاکٹر شیر افگن نے کہا کہ سینیئر افسران کی تعیناتی وزیرِاعظم کی صوابدید پر ہے اور اس کا کوٹہ سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے قبل ایک سینیٹر حمیداللہ جان آفریدی نے دعوٰی کیا کہ قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے تین انتہائی قابل افسران کو دانستہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اور سینیٹر اسفندیار ولی نے الزام لگایا کہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے وفاقی سیکریٹر گلزار خان کو صرف اس وجہ سے ہٹایا گیا کہ انہوں نے وفاقی وزیر برائے کشمیر فیصل صالح حیات کا ایک غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کر دیا تھا جس میں افسر کو گاڑیوں کے پٹرول کی جعلی رسیدوں پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ تاہم ڈاکٹر شیر افگن کے یہ کہنے پر کہ یہ تقرریاں اور برطرفیاں وزیرِاعظم کی ہی صوابدید پر ہیں اپوزیشن اراکین ایوان سے چلے گئے تاہم تھوڑی دیر بعد قائد ایوان وسیم سجاد کے کہنے پر اپوزیشن ایوان میں واپس آ گئی۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف رضا ربانی نے کہا کہ اگر کوئی وزیر سرکاری گاڑیوں اور پٹرول کا غلط استعمال کرے تو کیا وزیرِاعظم کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ یہ بات نہ ماننے والے افسر کو برطرف کر دے۔ اپوزیشن نے سینیٹ کے چیئرمین سے مطالبہ کیا کہ وہ متعلقہ وزیر کو ایوان میں طلب کر کے ان سے بازپرس کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||