سینیٹ:اپوزیشن کا واک آؤٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ میں سوئی میں ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بارے میں رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد وفاقی وزیر مملکت برائے محنت وافرادی قوت طارق عظیم کے ریمارکس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ ایوان میں سٹینڈنگ کمیٹی برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل کے چیئرمین سینیٹر دلاور عباس نے سوئی کے واقعے کی رپورٹ پیش کی جس میں پی پی ایل کی انتظامیہ کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ نے مقامی پولیس کو اس واقعے سے لاعلم رکھا اور پولیس کو ڈاکٹر شازیہ سے رابطہ نہیں کرنے دیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انتظامیہ نے واقعہ کے بعد ڈاکٹر شازیہ کے لواحقین کو اس واقعے کی اطلاع نہیں دی۔ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کی سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ یہ رپورٹ بالکل بے معنی ہے کیونکہ اس میں واقعہ کے مبینہ ذمہ دار آرمی کے کپتان کا کہیں ذکر نہیں ہے اور نہ ہی سینیٹ کی کمیٹی نے تحقیقات کے دوران اس کو طلب کیا۔ اس پر وزیر مملکت برائے افرادی قوت طارق عظیم نے کہا کہ اس واقعے میں کسی پر الزام لگانا ٹھیک نہیں۔ انھوں نے سینیٹر سعدیہ عباسی سے کہا کہ کیا وہ اس واقعے کے وقت لیڈی ڈاکٹر کے بیڈروم میں موجود تھیں؟۔ انھوں نے کہا کہ لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ جب یہ واقعہ ہوا تو ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی۔ وزیر کے ان جملوں پر حزب اختلاف کے ارکان نے وزیر سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور اس کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ تاہم وزیر کی طرف سے معافی مانگنے کے بعد ارکان ایوان میں واپس آگئے۔ اس کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ثنااللہ بلوچ نے الزام لگایا کہ پوری ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک آرمی کے کپتان کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر نے اس واقعے پر جاری انکوائری کے باوجود اس آرمی کپتان کو ٹی وی پر پیش کیا۔ چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے اس موقع پر یقین دلایا کہ اس انکوائری کے بعد اس واقعے کے ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اس موقع پر قائد حزب اختلاف نے کہا کہ لیڈی ڈاکٹر کے خاوند نے الزام لگایا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کی اہلیہ اور ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||