’چوبیس ہزار پاکستانی ملک بدر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے پارلیمینٹ کے ایوان بالا سینیٹ کو بتایا ہے کہ دنیا کے دس اسلامی ممالک سے سن دوہزار چار کے دوران چوبیس ہزار تین سو چالیس پاکستانی ملک بدر کیےگئے۔ بدھ کی شام منعقد ہونے والے اجلاس میں انہوں نے وقفہ سوالات کے دوران کہا کہ یہ پاکستانی روزگار کی خاطر غیرقانونی طور پر ان ممالک میں داخل ہوئے تھے۔ وزیر خارجہ کے مطابق سب سے زیادہ یعنی گیارہ ہزار نو سو اکتالیس لوگ متحدہ عرب امارات جبکہ گیارہ ہزار چار پاکستانی عمان سے بےدخل کیے گئے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ سعودی عرب سے نو سو اکتالیس، یمن سے چودہ، قطر سے دو سو، کویت سے ایک سو بتیس، مصر سے پینتالیس، شام سےچھ، لبنان سے چھیالیس اور عراق سے گیارہ پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا۔ مختلف سوالات کے جواب میں وزیر خارجہ نے ایوان کو مطلع کیا کہ دنیا کے سات اسلامی ممالک میں تین ہزار سے زیادہ پاکستانی قید ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ سعودی عرب میں ہیں جن کی تعداد اکیس سو انہتر ہے۔ جبکہ عمان کی جیلوں میں تین سو تراسی، متحدہ عرب امارات میں بانوے، کویت میں ایک سو تئیس، ترکی میں ایک سو پینتالیس، ایران میں چرانوے اور بحرین میں ایک پاکستانی قید ہے۔ حزب مخالف کے سینیٹرز کے ضمنی سوالات کے جواب میں وزیر نے کہا کہ متعلقہ ممالک میں پاکستانی سفارتخانے قید پاکستانیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ انسانی سمگلر رقم کی خاطر لوگوں کو ملازمتیں دلوانے کا جھانسہ دے کر غیر قانونی طور پر باہر بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی میں اضافے اور اقتصادی مسائل کی وجہ سے لوگ خود بھی غلط طریقوں سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہییں۔ لیکن ان کے مطابق حکومت انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||