ایک سال: بیس ہزار پاکستانی ملک بدر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عمان سے ملک بدر کیے گئے 1383 پاکستانی منگل کو کراچی پہنچ گئے۔ ان پاکستانیوں کو دو کارگو لانچوں میں لایا گیا ہے۔ پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے مطابق اس سال صرف عمان سے ملک بدر کئے گئے پاکستانیوں کی تعداد بیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے سینیٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے چار سالوں میں عمان سے تینتیس ہزار پاکستانی ملک بدر کئے گئے ہیں۔ بہتر مستقبل کی تلاش میں مقامی ایجنٹوں کے ہتھے چڑھنے والے ان لوگوں کی کم و بیش ایک ہی کہانی ہے۔ غربت اور بیروزگاری سے تنگ یہ افراد جن کا تعلق سندھ، پنجاب اور سرحد کے دیہی علاقوں سے ہے مقامی ایجنٹوں کو پندرہ سے بیس ہزار روپے دے کر کراچی پہنچتے ہیں۔ وہاں سے ان افراد کو بسوں میں بٹھا کر بلوچستان کے سرحدی علاقے مند بلو لے جایا جاتا ہے۔ وہاں سے ان کو رات کے وقت ایرانی سرحد پار کرائی جاتی ہے۔ اس کے بعد ایرانی ایجنٹ ان لوگوں کو بیس افراد کی ٹولیوں میں لانچوں کے ذریعے مسقط کے نزدیک سمندر میں اتار دیتے ہیں جہاں سے وہ تیر کر عمان کی سرحد میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور دھر لیے جاتے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ان افراد کو کراچی میں نہیں پکڑا جا سکتا کیونکہ جب بھی ایف آئی اے کہیں چھاپہ مارتی ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں نوکری کی تلاش میں جا رہے ہیں۔ پاکستان ایران سرحد پر بھی ایف آئی اے کے مطابق ان افراد کو اس لیے نہیں روکا جاسکتا کیونکہ سرحد بہت طویل ہے اور سرحدی چوکیاں بہت ہی کم ہیں۔ ایف آئی اے کوئٹہ نے حال ہی میں اس سارے معاملے کی تفتیش کر کے رپورٹ وفاقی حکومت کو بھجوائی ہے جس میں ایف آئی اے اور بارڈر سیکیورٹی فورس اور دیگر ایجنسیوں کے تعاون سے مند بلو میں ایک بڑا آپریشن کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہے تاکہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کی غیر قانونی طور پر ایران میں داخلے کو روکا جا سکے۔ ایف آئی اے کے مطابق مند بلو میں ایجنٹوں کے پاس جدید اسلحہ بڑی مقدار میں ہے جس کے باعث فوری طور پر کسی بھی کارروائی سے گریز کیا جا رہا ہے۔ ان افراد کی مسقط کی جیل سے رہائی اور ان کی وطن واپسے کا انتظام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے انچارج صارم برنی کا کہنا ہے کہ اس سارے معاملے میں ایرانی حکام زیادہ ملوث ہیں جو نہ بغیر پاسپورٹ کے ان پاکستانیوں کو سرحد پار کرنے سے روکتے اور نہ ہی ایرانی سرحد سے عمان جانے پر کسی کو گرفتار کرتے ہیں۔ عمان سے آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ صرف ماہ رمضان اور عید کے دنوں میں دس ہزار سے زائد پاکستانی غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہوئے اور ابھی تک ایران میں ہیں۔ تین دن اور دو راتوں کا سفر طے کر کے آنے والے اِن افراد کا کہنا ہے کہ انہیں اتنی تکلیفیں برداشت کرنے کے بعد اپنے ملک کی اہمیت کا احساس ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||