’پاکستانیوں کے قتل میں ملوث نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مقدونیا کے سابق وزیرِداخلہ لجوب بوکووسکی نے سال دو ہزار دو میں مقدونیا کی پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے سات پاکستانیوں کی ہلاکت میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ انہوں نے یہ بیان سنیچر کے روز کروشین ٹیلی ویژن کو دیا۔ یہ پاکستانی غیر قانونی تارکینِ وطن تھے جنہیں شدت پسند قرار دے کر انتہائی بہیمانہ طریقے سے گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔ گزشتہ ہفتہ مقدونیا کی پولیس نے وزیرِ داخلہ بوکووسکی کے خلاف واقعہ کی تفتیش کے لیے بروقت پیش نہ ہونے کی وجہ سے گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری کیا تھا۔ تفتیشی عملے نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس واقعہ کی منصوبہ بندی میں شریک تھے اور جھوٹے دعوے کر رہے تھے کہ اس واقعے کے ذمے دار دہشت گرد ہیں۔ یہ دعویٰ صرف اس لئے کیا گیا کہ امریکہ کی نظر دہشت گردی کے خلاف اس کے علاوہ ان ہلاکتوں کا مقدونیا کی پولیس سے تعلق رکھنے والے چھ سابق ممبران پر بھی الزام عائد ہوا ہے۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تھا تو اس وقت مقدونیہ کی وزارتِ داخلہ نے کہا تھا کہ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب مقتولین نے دارالحکومت سکوپئے میں حملہ کر کے پولیس والوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ در حقیقت ان کے قتل کا ڈراما رچایا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||