مقدونیا ہلاکتوں کی مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے ان خبروں کے بعد کہ سن دوہزار دو میں مقدونیا میں جن سات پاکستانیوں کو دہشت گرد قرار دے کر ہلاک گیا تھا ہو سکتا ہے کہ پولیس نے انہیں قتل کیا ہو شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے اس کارروائی کو ایک گھناؤنے جرم سے تعبیر کیا۔ اس قتل کا الزام مقدنیا کے سابق وزیر داخلہ اور چھ دوسرے پولیس اہلکاروں پر عائد کر دیا گیا ہے۔ سابق وزیر نے الزام کی تردید کی ہے۔ تاہم استغاثہ کے حکام کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد مقدونیہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی نظر میں اپنی ساکھ بڑھانے کے لئے ان پاکستانیوں کو ہلاک کیا تھا۔ مسعود خان نے کہا کہ پاکستان مقدونیا کی حکومت کے اس اقدام کو سراہتا ہے کہ اس نے اس گھناؤنے فعل کا انکشاف کیا اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی۔ اس سے قبل مقدونیائی حکام نے دو ہزار دو میں سات پاکستانیوں کو غلط طور پر شدت پسند قرار دے کر ہلاک کرنے کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ پاکستانی غیر قانونی تارکینِ وطن تھے جنہیں شدت پسند قرار دے کر انتہائی بہیمانہ طریقے سے گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تھا تو اس وقت مقدونیہ کی وزارتِ داخلہ نے کہا تھا کہ یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب مقتولین نے دارالحکومت سکوپئے میں حملہ کر کے پولیس والوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||