BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 May, 2004, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
22 ہزار کے لگ بھگ پاسپورٹ غائب

پاسپورٹ
چوہدری شجاعت سابق وزیرداخلہ ہیں اور فیصل صالح حیات موجودہ وزیرِ داخلہ
پاکستان کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں اکیس ہزار سات سو اکتالیس پاسپورٹ چوری ہوے یا لوٹ لیےگئے ہیں، جن میں بغداد کے سفارتخانے سے چوری ہونے والے ایک سو اٹھارہ پاسپورٹ بھی شامل ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ فیصل حیات نے منگل چار مئی کو تحریری طور پر ایوان بالا یعنی سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران پیش کی گئی معلومات میں بتایا تھا کہ سن انیس سو ننانوے میں وفاق پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقہ مہمند ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر سے پانچ سو، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے شہر مظفر آباد کے دفتر سے ایک سو چوراسی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے پاسپورٹ دفتر سے انیس سو ساٹھ پاسپورٹ چوری کیے گئے۔

حکومتی معلومات کے مطابق سن دوہزار کے دوران سیالکوٹ پاسپورٹ دفتر سےگیارہ سو اکیس، کوئٹہ سے بائیس سو چھ اور ایبٹ آباد کے دفتر سے اکیس سو ساٹھ پاسپورٹ غائب ہوئے۔

وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ سن دو ہزار ایک کے دوران ملتان سے اکیس سو سترہ ، گجرانوالہ لے جاتے ہوئے ایک ہزار اور پشاور کے ریلوے حکام سے دو ہزار پاسپورٹ چوری یا غائب کردیئے گئے۔

حکومت کی تحریری معلومات میں مزید کہا گیا ہے کہ سن دو ہزار دو میں صوبہ سندھ کے شہر سکھر کے پاسپورٹ دفتر سے چودہ سو پاسپورٹ غائب ہوئے جبکہ سوات لے جاتے ہوئے محکمہ ڈاک کے حکام سے تین ہزار پاسپورٹ چھینےگئے تھے۔

سن دو ہزار تین کے دوران وزارت کے مطابق پاسپورٹ دفتر فیصل آباد سے تین ہزار نو سو پچہتر جبکہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں قائم پاکستانی سفارتخانے سے ایک سو اٹھارہ پاسپورٹ چرائے گئے تھے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ کی سینیٹر مسز گلشن سعید کے سوال پر دیے گئے جواب میں وزیر داخلہ نے ایوان میں پیش کردہ معلومات میں مزید بتایا تھا کہ پاسپورٹ چوری ہونے یا چھینے جانے کے متعلق تحقیقات کرائی تھیں ، تاہم محکمے کا کوئی ملازم اس میں ملوث نہیں پایا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان سے انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد جعلی دستاویزات پر متعدد لوگوں کو بیرون ممالک روزگار کے لیےبھی بھیجتے رہے ہیں اور گزشتہ د نوں وزیر داخلہ نے ایسے کاروبار میں ملوث ایک بڑے گروہ کی گرفتاری کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

ماضی میں بعض شدت پسند کارروائیوں میں ملوث افراد سے جب پاکستانی پاسپورٹ برآمد ہوئے تھے تو پاکستانی حکومت کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ان کے چوری شدہ پاسپورٹ غیر پاکستانیوں نے استعمال کیے ہوں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد