عمان سے 758 پاکستانی وطن واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عمان سے بے دخل کئے گئے سات سو اٹھاون پاکستانی بدھ کو کراچی پہنچے۔ امیگریشن حکام کے مطابق اس سال صرف خلیجی ریاستوں سے بے دخل کئے جانے والے پاکستانیوں کی تعداد اکیس ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ ان پاکستانیوں کو ایک کارگو لانچ میں وطن واپس لایا گیا۔ ملک کے پسماندہ علاقوں سےتعلق رکھنے والے ان افراد کو مقامی ایجنٹ بیرون ملک نوکری کا وعدہ کرکے غیر قانونی طریقے سے مسقط کے نزدیک آدھی رات کے وقت سمندر میں اتار دیتے ہیں جہاں سے یہ افراد تیر کر عمان کی سرحد عبور کرتے ہیں اور سرحد پر ہی دھر لئے جاتے ہیں۔ ان افراد کو مسقط کی جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ کراچی سے ان افراد کو بلوچستان کے سرحدی قصبے مند بلو، وہاں سےایران اور پھر عمان کے ساحل پرلایا جاتا ہے۔ان پاکستنیوں کو لے جانے کے لئے ایجنٹ پچھلے چند سالوں سے یہی روٹ استعمال کر رہے ہیں مگر نہ ہی پاکستانی حکام اور نہ ہی ایرانی حکام اس سلسلے کو روک پائے ہیں۔ پاکستانی حکام کا موقف یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کراچی کے علاقے لی مارکیٹ سے ہفتے میں تین دن بسیں بھر کر بیرون ملک جانے کے ان خواہشمندوں کو بلوچستان لے کر جاتی ہیں مگر ان کو بلوچستان جانے سے روکنے کا ان کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ جبکہ ان افراد کو عمان کے جیلوں سے رہائی دلانےکے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے انچارج صارم برنی کا کہنا ہے کہ اس کاروبار میں چند با اثر لوگوں کے ملوث ہونے کی وجہ سے پاکستانی حکام کسی کاروائی سے گریز کر رہے ہیں۔ صارم برنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی حکام اس معاملے میں زیادہ قصوروار ہیں جو ان پاکستانیوں کو بغیر پاسپورٹ کے نہ صرف ایران میں داخل ہونے دیتے ہیں بلکے ان کو ایران سے مسقط پہنچنے سے بھی نہیں روکتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||