| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا سے وطن واپسی
سری لنکا کے راستے یورپ روانہ ہونے والے دو سو چون پاکستانی کولمبو سے واپس کراچی پہنچ گئے ہیں۔ ان افراد کو چار ماہ پہلے اٹلی جاتے ہوئے سری لنکا میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ جب یہ افراد کراچی ایئرپورٹ پہنچے تو ایف آئی اے کے حکام نے انہیں پوچھ گچھ کے لئے حراست میں کے لیا۔ سری لنکا سے واپس آنے والے افراد میں عمران ناصر بھی شامل ہیں۔ کراچی ایئر پورٹ کے امیگریشن سیل میں عمران ناصر نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انہیں ایک ایجنٹ تنویر نے سری لنکا کے راستے یورپ بھجوایا تھا۔ عمران ناصر نے بتایا کہ انہیں سری لنکا سے یونان اور وہاں سے سپین پہنچنا تھا جہاں ان کے ایک چچا روزگار کے سلسلہ میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یورپ بھجوانے کے بدلے ایجنٹ سے ساڑھے چار لاکھ روپے کی رقم طے ہوئی تھی۔ کراچی ایئر پورٹ پر اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے آنے والی عمران ناصر کی ماں کافی غمگین دکھائی دے رہی تھیں۔ انہوں نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انہوں نے تو یہ سوچا تھا کہ یورپ جائے تو مالی طور پر ذرا سنبھل جائے، اپنے مستقبل کے بارے کچھ سوچ لے گا۔ ’اب ایسا کبھی نہیں کروں گی، تھوڑا کھا لوں گی، زندگی بھر اسے اپنے پاس رکھوں گی، بچوں سے بڑھ کر تو کوئی چیز نہیں، یہ تو قسمت کی کمائی ہے، قسمت ہوگی تو تب ہی کھا سکیں گے۔‘ ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالمالک نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے آٹھ ہزار پاکستانیوں کو واپس ملک لایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں تین ہزار ایجنٹوں کو گرفتار کیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||