BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 February, 2005, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں کا اجلاس سے واک آوٹ

پارلیمان، اسلام آباد
صحافیوں نے ایوان بالا کے اجلاس سے واک آوٹ کیا
پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا، سینیٹ سے بدھ کے روز حکومت اور حزب اختلاف نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی ہے۔ جبکہ صحافیوں نے پریس گیلری سے وزیرستان میں دو صحافیوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی طور پر علامتی واک آؤٹ کیا جس کے بعد حکومت نے ہلاک ہونے والے صحافیوں کو مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔

قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اخباری ملازمین کی نئی اجرتوں کے تعین سے متعلق ساتویں ’ویج ایوارڈ‘ پر عملدرآمد کرائے اور سرکاری اشتہارات صرف ان اخبارات کو دیے جائیں جو اس پر عمل کرتے ہوئے ملازمین کو اجرتیں دیں۔

قرارداد حزب اختلاف کے رہنما رضا ربانی نے پیش کی جس کی قائد ایوان وسیم سجاد نے بھی حمایت کی۔

واضح رہے کہ ایسی ہی قراردادیں قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیاں بھی منظور کرچکی ہیں۔ لیکن اب تک ان پر عملدرآمد کے لیے کارروائی کمیٹیاں بنانے سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے اس موقع پر کہا کہ وہ صحافیوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں۔ وزیر نے بتایا کہ وزیراعظم شوکت عزیز کو انہوں نے آج ہی ایک سمری بھیجی ہے جس میں ’ویج ایوارڈ، پر عمل کرانے کے لئے اقدامات کرنے کو کہا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں چھ اخباری گروپ ہیں جو کُل اشتہارات کا 80 فیصد لیتے ہیں، ان کے ذرائع آمدن میں اضافہ ہوا ہے لیکن وہ صحافیوں کی تنخواہیں نہیں بڑھاتے۔ ان کے مطابق بعض اخباری گروپ صرف اتوار کی اشاعت میں ایک کروڑ روپے سے زیادہ کے اشتہارات لیتے ہیں۔

وزیر نے ایوان کو بتایا کہ ایک بڑے اخباری گروپ کے مالک نے حکومت کو جواب دیا کہ انہیں ہتھکڑی لگادیں لیکن وہ ملازمین کو ساتویں ویج ایوارڈ کے مطابق تنخواہیں نہیں دیں گے۔

انہوں نے حزب مخالف کو خبردار کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اگر کل حکومت اشتہارات ’ویج ایوارڈ‘ سے مشروط کرنے کا اعلان کرے تو حزب مخالف اخباری مالکان کی حمایت کرنا شروع کردے۔ انہوں نے ایوان کی مشترکہ کمیٹی بنانے کی بھی تجویز دی جو اخبار کے مالکان سے ایوارڈ پر عمل درآمد کروانے کے لیے بات چیت کرے گی۔

سینیٹ میں جہاں یہ قرار داد منظور کی گئی وہاں صحافیوں نے وزیرستان میں دو صحافیوں کی ہلاکت اور اب تک قاتلوں کی گرفتاری نہ کیے جانے کے خلاف کارروائی کا علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔

واک آوٹ کے بعد وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم صحافیوں کے پاس آئے اور مرنے والے صحافیوں کے اہل خانہ کو دو دو لاکھ روپے اور زخمی ہونے والے ایک صحافی کو ایک لاکھ روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ تینوں صحافیوں کو اسلام آباد کے نئے سیکٹر G-14 میں پلاٹ بھی دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کو سمری بھی بھیجی گئی ہے جس میں فی صحافی پانچ لاکھ کی مزید امداد دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اخباری ملازمین اور مالکان کے درمیاں اجرتوں کے نئے سرے سے تعین کے بارے میں تنازعہ دو برسوں سے چل رہا ہے اور فریقین میں اس کو حل کرانے کے لیے حکومت نے پانچ وفاقی وزراء پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

اس سے پہلے جب حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین وزیراعظم بنے تھے تو انہوں نے اس وقت کے وزیر خزانہ اور موجودہ وزیراعظم شوکت عزیز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی تھی۔

اس وقت حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ کمیٹی دس روز کے اندر فریقین کے نمائندوں سے مل کر وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی کابینہ کو رپورٹ پیش کرے گی۔ لیکن سات ماہ گزر جانے کے بعد چودھری شجاعت وزارت اعظمیٰ سے تو ہٹ گئے لیکن رپورٹ مکمل نہیں ہوسکی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد