سینیٹ، صحافیوں کا واک آؤٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی وزیر ستان کے صدر مقام وانا میں دو صحافیوں کے ہلاک کیے جانے اور کراچی میں ایک صحافی پر’سیکرٹ ایکٹ‘ کے تحت مقدمہ دائر کیے جانے پر سوموار کو سینیٹ کی پریس گیلری سے صحافیوں نے علامتی واک آوٹ کیا۔ صحافیوں کے واک آؤٹ کے بعد ایوان میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے ارکان نے وانا میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے صحافیوں کے واقعے کی مذمت کی۔ سینیٹ کے چیئرمین محمد میاں سومرو نے کہا کہ یہ ایوان صحافیوں پر حملے کی مذمت کرتا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم نے صحافیوں کو یقین دلایا کہ حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ دریں اثنا پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سیکریٹری جنرل سی آر شمسی نے صحافیوں کی ہلاکتوں کی مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر حملہ آووروں کو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سلسلے میں وانا گئے ہوئے تھے جس کے دوران ان پر حملے کیا گیا جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے ہلاک ہونے والے صحافیوں کے اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔ کراچی کے صحافی پر مقدمہ دراج کئے جانے پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہزار وسیم نے متعلقہ صحافی کو انصاف دلانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت اظہار رائے کی آزادی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔ وزیر کی یقین دہانی پر صحافی واپس پریس گیلری میں آگئے۔ ایک نجی ٹی وی چینل اور شام کے اخبار ’عوام‘ کے کراچی میں نمائندے افضل ندیم ڈوگر نے متعلقہ اخبار میں پانچ فروری کو ایک سرکاری خط کا عکس شائع کرتے ہوئے اس کے حوالے سے خبر دی کہ متحدہ قومی موومنٹ نے سونامی طوفان کے متاثرین کی امداد کے نام پر بھتہ وصول کیا اور لوگوں کو رسیدیں وغیرہ فراہم نہیں کیں۔ یہ خط حکومت پاکستان کی جانب سے وزارت داخلہ میں قائم کردہ ’ کرائیسس منیجمنٹ سیل، کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ، چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، محمکہ داخلہ کے سیکریٹریز اور انسپیکٹر جنرل پولیس کو بھیجا گیا تھا۔ خط کی کاپی بی بی سی کے پاس بھی موجود ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ ’ متحدہ قومی موومینٹ نے سونامی کے متاثرین کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں امدادی کیمپ لگائے، دوکانداروں اور شادی ہال والوں سے دو سے چار ہزار روپے فی شادی ہال، کراچی وسطی میں وصول کیے گئے۔ خط کے مطابق’ اب تک خطیر رقم زبردستی اکٹھی کی گئی ہے، جس کی رسیدوں کا مناسب ریکارڈ بھی نہیں ہے۔ اس سے رقم اکٹھی کرنے والوں کی نیت پر شک ہوتا ہے۔‘ اس خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’سڑک کنارے امدادی کیمپ قائم کرنے کا بنیادی مقصد سیاسی نوعیت کا ہوتا ہے لیکن بعض اوقات پارٹی کو بتاکر یا اس کے علم میں لائے بغیر مالی فوائد حاصل کرنا بھی مقصود ہوتا ہے اور کبھی جھگڑوں کا خطرہ بھی ہوتا ہے جو امن امان کے لیے ٹھیک نہیں۔‘ اس خط کی بنا پر شائع کردہ خبر کے بعد کراچی کے تھانہ ’میٹھا در، پولیس نے خبر دینے والے صحافی کے خلاف ’سیکرٹ ایکٹ، کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ درج شدہ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ خط حساس نوعیت کا ہے اور متعلقہ رپورٹر نے ناجائز ذرائع سے حاصل کیا جو کہ ایک جرم ہے۔ ’ایف آئی آر، میں لکھا گیا ہے کہ اس سے ملکی سلامتی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ متحدہ قومی موومینٹ کے سینیٹرز نے قبل ازیں ایوان میں اس خط کی اشاعت کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ان کی جماعت حکومت کی حلیف ہے اور کچھ لوگ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف سازشیں کرتے ہوئے ایسی خبریں شائع کرا رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||