BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 April, 2005, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی پی اور پی ایم ایل اختلافات ختم

امین فہیم اور ظفرالحق (فائل فوٹو)
دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے مل کر جدوجہد جاری رکھنے کی بات کی
پاکستان میں حزب مخالف کے ’اتحاد برائے بحالی جمہوریت‘ یعنی اے آر ڈی کی دو بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے ہیں اور دونوں نے اتحاد کے ’پلیٹ فارم‘ سے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان دونوں جماعتوں کے رہنماؤں میں پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد پیر، پچیس اپریل کو مخدوم امین فہیم کے فارم ہاؤس پر اتحاد کے غیر رسمی اجلاس کے بعد کیا گیا۔

اجلاس میں مسلم لیگ نواز کی جانب سے راجہ ظفرالحق، چودھری نثار علی، تہمینہ دولتانہ اور سید ظفر علی شاہ شریک ہوئے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کی نمائندگی مخدوم امین فہیم، رضا ربانی اور سینیٹر انور بیگ نے کی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل مسلم لیگ (ن) کے قائم مقام پارلیمانی رہنما چودھری نثار علی خان نے اعلان کیا تھا کہ آصف زرداری کے اسٹیبلشمینٹ سے مفاہمت کے حالیہ بیانات کے بعد ان کی جماعت اے آر ڈی سے تعلقات معطل رکھے گی اور آئندہ لائحہ عمل اعلیٰ سطح پر پارٹی کے اجلاس میں طے کیا جائے گا۔

غیر رسمی اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں مخدوم امین فہیم اور راجہ ظفرالحق نے اختلافات ختم ہونے اور غلط فہمیاں دور ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ مستقبل میں دونوں جماعتیں اے آر ڈی کو مزید سرگرم کریں گی اور اس ضمن میں اے آر ڈی کا آئندہ اجلاس اٹھائیس اپریل کو اسلام آباد میں مسلم لیگ نواز کی میزبانی میں ہوگا۔

بعد میں مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ ظفرالحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پیپلز پارٹی کی وضاحتوں کے بعد ہم مطمئن ہیں اور مشترکہ طور پر جمہوریت اور آئین کی بحالی اور پارلیمان کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے‘۔

مخدوم امین فہیم کی موجودگی میں راجہ ظفرالحق نے کہا کہ آج اتفاق رائے سے طے ہوا ہے کہ کوئی بھی جماعت موجودہ غیر آئینی انتظامیہ سے مفاہمت نہیں کرے گی اور نہ کوئی ایسا قدم اٹھائے گی جس سے فوجی حکمرانوں کو تقویت پہنچے۔

جب ان سے دریافت کیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت سے بات چیت نہیں کرے گی؟ تو مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ ’مفاہمت نہ کرنے میں بہت کچھ آتا ہے‘ ۔ تاہم انہوں نے مزید وضاحت کیے بنا کہا کہ باقی تفصیلات مخدوم امین فہیم سے پوچھیں۔

جب مخدوم امین فہیم سے اس ضمن میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور حکومت کے رابطوں کے متعلق مسلم لیگ کے دوستوں کو کچھ تحفظات تھے جو دور کردیے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق بات کرنا اور چیز ہے فیصلہ کرنا دوسری چیز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد کے مرحوم بانی نوابزادہ نصراللہ بھی ہمیشہ کہتے تھے کہ کبھی مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہیے۔ ساتھ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت سے جو بھی بات چیت یا مفاہمت ہوگی وہ اتحاد کے چارٹر کے مطابق ہوگی۔

دونوں جماعتوں کے رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ ہونے والی بات چیت کے بعد بھی لگ رہا ہے کہ حکومت سے مفاہمت کے سوال پر اب بھی دونوں میں اختلاف رائے موجود ہے لیکن اس کے باوجود بھی دونوں رہنما اپنے اختلافات ختم ہونے کے دعوے کر رہے ہیں۔

کس کو کیا ملا؟
زرداری کی آمد کے بعد لاہور کا سیاسی نقشہ
66کامیاب سٹریٹیجی؟
آج مشرف کی وردی کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد