آے آر ڈی ٹوٹ پھوٹ کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتحاد برائے بحالی جمہوریت، یعنی ’اے آر ڈی، کی دونوں بڑی جماعتوں میں سخت اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز نے پیپلز پارٹی پر الزامات عائد کرتے ہوئے اتحاد کے آئندہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما چودھری نثار علی خان نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کردار سے انہیں مایوسی ہوئی ہے کیونکہ گزشتہ چند ہفتوں سے وہ انفرادی طور پر فیصلے کر رہے ہیں اور اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا جارہا۔ چوہدری نثار علی کے مطابق آصف علی زرداری کے دبئی سے واپسی کے بعد آے آر ڈی میں اختلافات کا عمل شروع ہوا۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک طرف حکومت کے خلاف بات کرتی ہے۔ دوسری طرف اسٹیبلشمینٹ سے بات چیت بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اے آر ڈی، نے حکومت مخالف جلسوں کا اعلان کیا تھا لیکن پیپلز پارٹی والے بغیر مشورے کے جلسے منسوخ کرتے رہے ہے۔ ان کے مطابق اب پیپلز پارٹی کو واضح کرنا ہوگا کہ وہ جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کرنے والوں کا ساتھ دیتی ہے یا جرنیلوں کا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ وہ جمہوریت چاہتی ہے یا مفاہمت، تہتر کا آئین چاہتی ہے یا صدر جنرل پرویز مشرف کا آئین۔ ان کے مطابق جب تک پیپلز پارٹی وضاحت نہیں کرے گی اس وقت تک مسلم لیگ نواز ’اے آر ڈی، کے کسی اجلاس میں شریک نہیں ہوگی کیونکہ اب ’آدھا تیتر آدھا بٹیر، نہیں چلے گا۔ مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ وہ اپنی جماعت کا جلد اجلاس بلاکر آئندہ کی حکمت عملی کے بارے میں غور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کی وضاحت تک بھی سرگرمی میں ساتھ نہیں دیں گے۔ البتہ ان کے مطابق پارلیمان کے اندر انسانی حقوق اور پارلیمان کی بالادستی کے معاملے پر وہ ان سے تعاون جاری رکھیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ’اے آر ڈی، کے خاتمے کی ابتدا ہے تو چودھری نثار علی نے کہا کہ وہ فی الوقت اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے لیکن ان کی جماعت کے اجلاس کے بعد وہ اس بارے میں بتا سکیں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان اختلافات کے بعد اس اتحاد کو اب شدید خطرہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||