BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 March, 2005, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے آر ڈی مہم، اپریل کے آخر میں

اے آر ڈی
’حکومت سے ہر معاملہ اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے طے کیا جائے گا ‘
حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی یعنی اتحاد برائے بحالی جمہوریت نے حکومت اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف اپنی نئی عوامی رابطہ مہم اپریل کے آخری ہفتے سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس عوامی رابطہ مہم میں ملک کے بڑے شہروں میں جلسے اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔

اسلام آباد میں اے آر ڈی کے اجلاس کے بعد اتحاد کے سیکریٹری جنرل ظفر اقبال جھگڑا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان جلسوں کے پروگرام کا اعلان اتحاد کے صوبائی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

اتحاد کے اجلاس میں دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی دو اپریل کو پہیہ جام ہڑتال اور تیس مارچ کو قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم کی کال پر ہڑتال میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ تاہم ظفر اقبال جھگڑا کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر فیصلہ اے آر ڈی کی کمیٹی کرے گی۔

اے آر ڈی نے اجلاس میں ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں شرکت کی مذمت کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ صدر مشرف ان جلسوں میں جا کر آئین کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ صدر سیاسی جماعتوں کی الیکشن مہم چلا کر اپنے حلف سے بے وفائی کر رہے ہیں۔

بلوچستان کے مسئلے پر اتحاد نے مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین کی طرف سے مسئلے کے سیاسی حل کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے اور ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ بلوچستان سے فوج کو واپس بلایا جائے اور ڈیرہ بگتی کا محاصرہ ختم کیا جائے۔

ظفر اقبال جھگڑا نے حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بات چیت کے بارے میں کہا کہ اتحاد کو پی پی پی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت سے ہر معاملہ اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے طے کیا جائے گا اور پی پی پی بالا ہی بالا حکومت سے کوئی ڈیل نہیں کرے گی۔

اے آر ڈی نے شمالی علاقہ جات بالخصوص گلگت میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور علاقے میں صورتحال کے جائزے کے لیے اتحاد کا ایک وفد بھیجنے کا اعلان کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد