BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 July, 2004, 13:57 GMT 18:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے آر ڈی امیدوار کا اعلان آج

News image
مسلم لیگ نواز کی تہمینہ دولتانہ
اٹک اور تھر پارکر کے قومی اسمبلی کے حلقوں کے ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت کے نامزد وزیراعظم شوکت عزیز کے مقابلہ میں اے آر ڈی کے مشترکہ امیدواروں کا اعلان منگل کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

سوار کو حزب اختلاف کے اتحاد براۓ بحالئی جمہوریت (اے آر ڈی) نے قومی اسمبلی کے ان حلقوں کے ضمنی انتخابات میں شوکت عزیز کے مقابلہ میں مشترکہ امیدوار لانے پر غور کے بعد اتفاق کیا کہ حتمی فیصلہ اور امیدواروں کے ناموں کا اعلان منگل کو کیا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی لاہور میں اے آر ڈی کے سربراہی اجلاس کے بعد ہونے والی پریس بریفنگ بھی منگل کی شام تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اے آر ڈی کے ایک رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کے اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے درمیان شوکت عزیز کے مقابلہ میں مل کر امیدوار لانے پر اتفاق راۓ تھا اور اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ امیدوار کا فیصلہ تو یہ پارٹیاں کریں گی لیکن اس کا اعلان اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے اتحاد کے امیدوار کے طور پر کیا جاۓ گا۔

اے آر ڈی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ضروری نہیں کہ ایک نشست پیپلز پارٹی کو اور دوسری مسلم لیگ(ن) کو ملے۔ دونوں نشستیں ایک پارٹی کو بھی مل سکتی ہیں۔

اے آر ڈی کےاجلاس میں شریک ایک رہنما کے مطابق اجلاس میں متحدہ مجلس عمل پر خاصی تنقید کی گئی اور اس سے انتخابی اتحاد بنانے کی مخالفت کی گئی۔

اجلاس میں قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں کا تجزیہ پیش کیا گیا اورماضی کے نتائج پر بات کی گئی۔تہمینہ دولتانہ اور مخدوم امین فہیم اجلاس کے دوران میں باہر اٹھ کر گۓ اور انھوں نے نواز شریف اور بے نظیر بھٹو سے ٹیلیفون پر مشاورت کی۔

اٹک کے حلقہ کے لیے مسلم لیگ(ن) کے راجہ ظفرالحق اور مخدوم جاوید ہاشمی کے نام پیش کیے گۓ تاہم یہاں سے بھی پیپلز پارٹی کے پاس کوئی مضبوط امیدوار ہوا تو اس کا امیدوار کھڑا ہوسکتا ہے۔

تھر پارکر کی نشست پر مخدوم امین فہیم نے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو سے اجلاس کے دوران میں ٹیلیفون پر بات کرکے اس کی تفصیل معلوم کی۔

اے آر ڈی کے رہنماؤں کا خیال تھا کہ تھرپارکر کی نشست ایک دشوار حلقہ ہے جو خاصا وسیع و عریض ہے اور یہاں ووٹروں کا نصف ہندو آبادی پر مشتمل ہے۔ تاہم اس حلقہ میں پیر پگارو اور مخدوم امین فہیم کے خاندانوں کے مریدین بھی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔

بعض رہنماؤں کا خیال تھا کہ یہاں سے انتخاب لڑنے کے لیے مالی طور پر مستحکم امیدوار تلاش کیاجاۓ۔ اجلاس میں یہ راۓ بھی تھی کہ یہاں سے مخدوم امین فہیم کے خاندان کا کوئی فرد الیکشن لڑے۔

کل تک مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی ان دونوں قومی حلقوں سے امیدواروں کے ناموں پر حتمی فیصلہ کر سکیں گی اوراے آر ڈی کا اجلاس دوبارہ ہوگا جس کے بعد اس کے فیصلوں کا باقاعدہ اعلان کیا جاۓ گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد