BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 July, 2004, 11:05 GMT 16:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلا مقابلہ جتوایا جائے گا‘

ارباب غلام رحیم
ارباب رحیم وزیر اعلی بننے کے بعد اپنے آبائی ضلع میں پہلی مرتبہ آئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے مستقبل کے وزیر اعظم شوکت عزیز کو قومی اسمبلی کی نشست پر بلامقابلہ جتوانے کا عندیہ دیا ہے۔

وہ اتوار کی شام صحرائے تھر کے ضلع ہیڈکوارٹر مٹھی میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔

ارباب رحیم وزیر اعلیٰ بننے کے بعد اپنے آبائی ضلع میں پہلی مرتبہ آئے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ کے امیدوار شوکت عزیز کی تھر کے حلقے این اے 229 میں انتخابی مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ تھر کے لوگوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے شوکت عزیز کو نشست دی ہے اور یہ کوئی سستا سودا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ شوکت عزیز کو بلامقابلہ کامیاب کرائیں۔ انہوں نے تھر کے لوگوں سے کہا کہ وہ ہمت کا مظاہرہ کریں اور شوکت عزیز کے مقابلہ میں جو بھی امیدوار آئے اس کو تجویز کنندہ اور تائید کنندہ بھی نہ ملے۔

 ماضی میں غلام مصطفی جتوئی اور محمد خان جونیجو کو پنجاب نے نشستیں دی تھیں لیکن میں نے تھر کی یہ نشست پرویز مشرف کو دی ہے جن کا تعلق کراچی سے ہے
وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم

ارباب رحیم نے کہا کہ وہ صدر پرویز مشرف، پیر پگاڑا اور الطاف حسین کے شکرگزار ہیں جن کی وجہ سے وہ وزیراعلیٰ سندھ ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بااختیار وزیراعلی ہیں اور وہ ٹھاٹھ سے حکومت کرینگے پھر چاہے کم عرصہ ہی حکومت کیوں نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ تھر کے عوام کی خوش قسمتی ہے کہ وزیر اعلی بھی تھر سے ہے اور اب وزیر اعظم بھی تھر سے ( منتخب) ہونے جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں غلام مصطفی جتوئی اور محمد خان جونیجو کو پنجاب نے نشستیں دی تھیں لیکن میں نے تھر کی یہ نشست پرویز مشرف کو دی ہے جن کا تعلق کراچی سے ہے اور اب یہ تھر کے لوگوں کا فرض ہے کہ انہیں بلامقابلہ کامیاب بنائیں-

انہوں نے انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت نے حکومت سندھ سے ایک معاہدہ کیا ہے جس کی رو سے تھر کو گیس فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ سات جولائی کو مستقبل کے وزیر اعظم سمیت کئی رہنما مٹھی آئیں گے۔ یہ پہلا موقع ہوگا کہ تھر کو سیاسی اور معاشی حوالے سے اتنی اہمیت مل رہی ہے۔

حیدرآباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ ارباب غلام رحیم کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ جھگڑا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ پی پی پی تھر میں الیکشن کے لئے جھگڑا کرنا نہیں چاہتی اور بغیر اسلحہ کے پرامن طور پر انتخابات لڑنا چاہتی ہے- انہوں نے کہا کہ تھر میں انتخابات شفاف نہیں ہونگے اور جان بوجھ کر امن امان کو خراب کیا جائےگا- تاہم ان کی جماعت انتخابات میں حصہ لے گی-

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد