امریکہ سے معافی کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے امریکہ سے قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر غیرمشروط معافی مانگنے اور متعلقہ فوجیوں کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ ملک بھر میں احتجاج کا دائرہ وسیع کردیں گے۔ یہ مطالبہ مجلس عمل کے سرکردہ رہنما حافظ حسین احمد اور دیگر مقررین نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔ مقررین نے اس موقع پر صدر جنرل پرویز مشرف پر کڑی نکتہ چینی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ جب تک امریکہ غیر مشروط طور پر معافی نہ مانگے اور ذمہ دار فوجیوں کو سزا نہ دے اس وقت تک اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کیا جائے اور امریکہ سے سفارتی تعلقات معطل کیے جائیں۔ مجلس عمل کی اپیل پر اسلام آباد میں پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کرانے کے لیے نکالے گئے جلوس کی نسبت قرآن کی بے حرمتی کے خلاف منعقد کردہ جلسے کے شرکاء کی تعداد توقعات سے کہیں کم تھی۔ ماضی میں طالبان کی حمایت سے لے کر ’مجاہدین‘ کی گرفتاریوں تک جتنے بھی احتجاجی جلوس تھے وہ اسلام آْباد کی مرکزی لال مسجد کے سامنے یا آبپارہ چوک پر ہوتے تھے لیکن اتنے اہم معاملے پر اس بار مجلس نے اجتماع کراچی کمپنی کے پاس سرکاری ’فلیٹس‘ کے درمیان ایک مسجد کے باہر کیا۔ پولیس کی بھاری نفری تو موجود تھی لیکن کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور نہ ہی مجلس نے جلوس نکالا۔ مسجد سے جیسے ہی نمازی باہر آئے تو دروازے کے پاس ایک چھوٹے ٹرک پر کڑی دھوپ میں مقررین نے چھوٹے جلسے کو خطاب کیا۔ شرکاء نے اس موقع پر امریکہ اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے مجلس عمل نے اسلام آباد انتظامیہ کی پہلے سے کردہ مشاورت کے بعد ہی اس غیر معروف جگہ کا انتخاب کیا۔ مجلس عمل کے مرکزی ترجمان شاہد شمسی کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر میں آٹھ سو مظاہرے ہوئے ہیں۔ جب ان سے اسلام آباد اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں منعقد جلسے جلسوں میں لوگوں کی کم تعداد میں شرکت کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ ان کی حکمت عملی اس بار یہ تھی کہیں بھی مرکزی جلوس یا جلسہ نہیں ہوگا بلکہ زیادہ جگہوں پر احتجاج کرنا مقصود تھا۔ اسلام آباد کی کچھ مساجد سے اطلاعات کے مطابق جمعہ خطبے کے دوران بھی خطیبوں نے امریکہ کے خلاف سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے قرآن کی مبینہ بے حرمتی کی مذمت کی۔ واضح رہے کہ کیوبا کی ’گوانتانامو‘ خلیج میں واقع امریکی قید خانے میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی اور واشنگٹن ٹائمز میں ایک کارٹون کی اشاعت کے خلاف مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے جمعہ کے روز ملک بھر کے مختلف شہروں میں احتجاج کی اپیل کی تھی۔ واشنگٹن ٹائمز نے ابو فراج کی گرفتاری کے بعد ایک کارٹون شائع کیا تھا جس میں ایک امریکی فوجی کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کتے کو دکھایا گیا تھا۔ کتے کے اوپر پاکستان لکھا تھا جبکہ فوجی اسے کہہ رہا تھا اچھے بچے جاؤ بن لادن کو بھی پکڑو۔ اس کارٹوں کی اشاعت کے خلاف قومی اسممبلی متفقہ مذمتی قرار داد منظور کرچکی ہے اور قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف ان دنوں ایوان میں بحث کی جارہی۔ جمعہ کے روز شام کو بھی خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اسمبلی میں دونوں جانب کے اراکین نے قرآن کی مبینہ بے حرمتی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ سے احتجاج کرے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بنوری ٹاؤن کی جامع مسجد کے باہر نماز کے بعد احتجاج کیا گیا اور اطلاعات کے مطابق مجلس عمل کا کوئی مرکزی رہنماء شریک نہیں تھا جبکہ اس جلسے کے شرکاء کی تعداد بھی اتنی زیادہ نہیں تھی۔ پشاور میں مجلس عمل کی دو بڑی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام (ف) نے علیحدہ علیحدہ احتجاج کیا۔ دونوں کے جلسے جلوسوں میں شرکاء کا جوش جذبہ تو قابل ذکر تھا لیکن تعداد خلاف توقع یعنی کم ہی نظر آئی۔ کوئٹہ میں سورج گنج بازار کی جامع مسجد سے جلوس نکالا گیا جو منان چوک پر جلسے کی صورت اختیار کر گیا۔ صوبائی وزراء سمیت مقررین نے خطاب میں امریکہ اور پاکستان کی مرکزی حکومت کے خلاف سخت تقاریر کیں۔ لیکن شرکاء کی تعداد اس جلوس میں بھی خاصی کم بتائی جاتی ہے۔ سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی مسجد شہداء کے باہر چند درجن لوگ جمع ہوئے۔ مقررین کے خطاب کے بعد شرکاء امریکہ اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے لگائے اور پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||