پشاور میں احتجاجی مظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دینی مدارس کے طلبا نے جمعرات کے روز صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں گوانتاناموبے میں امریکی قید خانے میں قرآن کی مبینہ بےحرمتی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ ایک سو سے زائد دینی مدارس کے طلبہ پر مشتمل یہ مظاہرہ جمعہ اشرفیہ بجوڑی گیٹ سے شروع ہوا۔ شہر کے مختلف بازاروں سے ہوتا ہوا یہ سوئیکارنو چوک پہنچا۔ راستے میں بڑی تعداد میں تاجر اور دکاندار بھی اس میں شامل ہوگئے۔ مظاہرین مارچ کے دوران ’امریکہ مردہ باد‘ اور ’امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے، غدار ہے‘ جیسے نعرے لگاتے رہے۔ انہوں نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ سے عراق اور افغانستان سے واپس چلے جانے جیسے مطالبات درج تھے۔ مقررین نے اس موقع پر خطاب میں قرآن کی مبینہ بےحرمتی کی مذمت کی اور امریکہ سے مسلمانوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ بعد میں مظاہرین پرامن طریقے سے منتشر ہوگئے۔ چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے جمعہ کے روز ملک بھر میں اس واقعہ کے خلاف احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||