BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 March, 2005, 05:52 GMT 10:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور میں ہنگامے، کراچی جزوی بند
 آنسو گیس کے گولے
پشاور میں ہنگاموں کے دوران فوج کا گشت
قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم کی اپیل پر کالا باغ ڈیم اور مہنگائی کے خلاف صوبہ بلوچستان میں مکمل ہڑتال ہوئی ہے جب کہ اندرونِ سندھ اور کراچی میں جزوی ہڑتال ہونے کی اطلاع ہے۔

کوئٹہ میں مکمل ہڑتال رہی اور سڑکیں ویران پڑی رہیں جبکہ گورنر بلوچستان کے قافلے پر پتھراؤ اور ان کے خلاف نعرہ بازی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کراچی میں مختلف مقامات پر متعدد گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا ہے اور پشاور چھاونی میں ہنگامے اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

سندھ پونم کے صدر قادر مگسی نے کہا ہے کہ سندھ، بلوچستان، سرحد میں مکمل اور پنجاب کے سرائیکی علاقوں مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازی خان میں جزوی ہڑتال ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ہڑتال سے ثابت ہو گیا ہے کہ عوام اور خاص طور پر پاکستان کی محکوم قومیں اسلام آباد کی پالیسوں پر نہ خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہڑتال کالا باغ ڈیم، گیٹر تھل کینال، بلوچستان میں مبینہ فوجی آپریشن اور ان تمام زیادتیوں کے خلاف ہے جن کا عوام کو سامنا ہے۔

News image

پشاور سے صحافی رفعت اللہ اورکزئی نے اطلاع دی ہے کہ پونم کی ہڑتال کے موقع پر جمعرات کی صبح درجنوں مظاہرین یونیورسٹی روڈ پر نکل آئے اور ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے کھلی ہوئی دکانوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔

ان مظاہرین نے نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ اس موقع پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ اس موقع پر فوج بھی موجود تھی۔ مظاہرے کے دوران ہوائی فائرنگ بھی ہوئی لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

مظاہرین کی توڑ پھوڑ کو روکنے کے لیے پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے فوج کی مدد حاصل کر لی۔ پشاور کی یونیورسٹی روڈ پرصبح سات بجے سے دس بجے تک شدید ہنگامہ آرائی ہوئی اور اس مصروف سڑک پرٹریفک معطل رہی۔

حیدر آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار علی حسن کے مطابق سندھ میں بھی پونم کی کال پر ہڑتال ہوئی ہے اور اکثر شہروں میں کاروبارِ زندگی معطل رہا ہے۔ تاہم میرپورخاص، سکھر اور سانگھڑ میں کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق چلتا رہا۔ اندرونِ سندھ پولیس نے لوگوں کو ہڑتال پر اکسانے کے جرم کچھ گرفتاریاں بھی کی ہیں۔

کراچی سے صحافی اسد اللہ نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ شہر میں پونم کی کال پر جزوی ہڑتال کی گئی اور بعض علاقوں میں ٹریفک معطل رہی۔

News image
اس موقع پر پولیس بھی تعینات رہی

اس موقع پر شہر کے مختلف علاقوں سے دس کے قریب گاڑیوں کے نذر آتش کیے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ٹریفک نہ ہونے کے باعث لوگوں کو دفاتر تک پہنچنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا اور تعلیمی اداروں اور دفاتر میں حاضری کم رہی۔

کراچی میں گاڑیوں اور بسیں جلانے کا سلسلہ بدھ کی شام سے ہی شروع ہو گیا تھا جب تین بسوں کو نذر آتش کر دیا گیا تھا۔ جمعرات کی صبح ملیر ہالٹ کے علاقے میں ایک ٹیکسی اور ایک گاڑی کو جلا دیا گیا۔ اس واقعے میں ٹیکسی کا ڈرائیور بھی شدید زخمی ہو گیا۔

نصرت بھٹو کالونی میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی تین گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی جب بہادر آباد، سہراب گوٹھ اور سچل کے علاقوں سے بھی گاڑیاں جلانے کی وراداتوں کی اطلاعات ملی ہیں۔گلستان جوہر میں ایک پولیس چیک پوسٹ پر مظاہرین نے حملہ کرکے پولیس کو وہاں سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

کو ئٹہ سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے عزیز اللہ نے خبر دی ہے بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں مکمل پہیہ جام ہڑتال ہے جبکہ کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں۔

یہ ہڑتال گوادر میگا پراجیکٹ، کالا باغ ڈیم اور گریٹر تھل کینال جیسے منصوبوں ، بلوچستان میں چھاونیوں کے قیام اور فوجی کارروائیوں کے خلاف کی جا رہی ہے۔ پونم میں شامل جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں، تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز کی تنظیمیں بھی اس ہڑتال میں شامل ہیں۔

News image
ہڑتال کے دوران بلوچستان میں تجارتی مراکز بند رہے

کوئٹہ میں مکمل ہڑتال ہے اور سڑکیں ویران پڑی ہیں۔ بعض مقامات پر پولیس اور سیاسی کارکنوں کے مابین آنکھ مچولی جاری ہے۔ سیاسی کارکن دکانیں بند کرانے اور ٹریفک بند رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض مقامات سے پولیس اور سیاسی کارکنوں کے مابین پتھراؤ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیٹر ثناء اللہ بلوچ اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارت وال نے کہا ہے کہ اندرون سندھ اور صوبہ سرحد کے بیشتر علاقوں میں ہڑتال کامیاب رہی ہے۔ پنجاب کے کچھ علاقوں میں دکانیں بند رکھی گئی ہیں۔

بلوچستا ن کے بیشتر علاقے جیسے لورالائی، چمن، خضدار، سبی، گوادر، تربت ڈیرہ بگٹی وغیرہ میں مکمل ہڑتال ہے۔ جبکہ ڈیرہ اللہ یار اور قریبی علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کچھ دکانیں کھلی رہیں اور کچھ گاڑیاں سڑکوں پر چلتی رہی ہیں۔

پشین میں پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے کارکن یارو تک پیدل مارچ کررہے ہیں۔ اس علاقے میں آج گورنر بلوچستان اویس احمد غنی نے یونیورسٹی کا افتتاح کرنا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد