زلزلے کی ’افواہ‘ سے خوف وہراس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں بشمول صوبائی دارلحکومت پشاور میں زلزلے کی افواہ نے خوف وہراس پھیلا دیا ہے۔ تاہم صوبائی حکومت نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہےاور عوام کو پرسکون رہنے کی تلقین کی ہے۔ صوبائی دارلحکومت پشاور سمیت کرک اور سرائے نورنگ میں زلزلے کی افواہ نے کل شام سے گردش کرنا شروع کیا۔ سینئر صوبائی وزیر سراج الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ افواہ جمعہ کی رات گئے صوبے کے جنوبی شہر کرک سے کسی نامعلوم شخص کی جانب سے لاوڈ سپیکر پر اعلان سے پھیلی۔ اس کے بعد یہ جنگل کی آگ کی طرح صوبائی دارلحکومت پشاور سمیت مختلف علاقوں میں پھیل گئی۔ مسجدوں میں اعلانات اور کئی علاقوں میں پولیس بھی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے مشورے دینے لگے جس سے صورتحال مزید ابتر ہوگئی۔ لوگ ایک دوسرے سے ٹیلفون پر زلزلے کے بارے میں پوچھتے رہے۔ ہزاروں لوگ گھر بار چھوڑ کر کھلے میدانوں اور قبرستانوں میں جمع ہوگئے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق پولیس کی موبائل ٹیموں نے عوام کو واپس اپنے گھروں کو جانے کی ہدایت دینا شروع کر دیا ہے۔ سینئر وزیر سراج الحق نے بھی عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ آج تک زلزلے کی پیشن گوئی کا کوئی سائنسی طریقہ ایجاد نہیں ہوا ہے البتہ خوفزدہ ہونے والوں میں بڑی تعداد پڑھے لکھے افراد کی بھی ہے۔ کئی لوگ زلزلے کی خبر بی بی سی سے چلنے کی افواہیں بھی پھیلا رہے ہیں حالانکہ اس ادارے سے ایسی کوئی خبر نشر نہیں ہوئی۔ سینر وزیر کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اس افواہ کی تردید کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے البتہ اس کی تفصیل انہوں نے نہیں بتائی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||