مذہبی آزادی پر تشویش مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کی شام گئے جاری کردہ ایک بیان میں پاکستان میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں امریکہ کی ظاہر کردہ تشویش کو مسترد کردیا ہے۔ عالمی مذہبی آزادی کے بارے میں امریکی کمیشن کی سالانہ رپورٹ میں ظاہر کردہ تشویش کے متعلق ترجمان نے کہا ہے کہ رپورٹ میں پاکستان کی صورتحال کے بارے میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز متعلقہ امریکی کمیشن نے اپنی حکومت کو پیش کردہ رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نام بھی شامل کیا جائے۔ جبکہ کمیشن نے بھارت کا نام اس فہرست سے نکالنے کی بھی سفارش کی ہے۔ کمیشن کے چیئرپرسن پریتا بنسال نے بدھ کے روز واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کے علاوہ ازبکستان اور ترکمانستان کے نام بھی مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزیاں کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ امریکی کمیشن کے رپورٹ میں پاکستان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اہل تشیع، احمدی، ہندو اور عیسائی مذاہب اور فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف تشدد روکنے میں حکومت کامیاب نہیں ہوئی۔ امریکہ کا یہ دس رکنی کمیشن کانگریس اور صدر کے نامزد نمائندوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر سال مذہبی آزادیوں کے بارے میں رپورٹ تیار کرتا ہے۔ امریکی کمیشن کی ’بلیک لسٹ، میں چین، برما، ایران، شمالی کوریا، سوڈان پہلے سے شامل ہیں لیکن گزشتہ سال سعودی عرب، اریٹیریا اور ویتنام کے نام شامل کیے گئے تھے۔ پاکستان کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے ملک میں مذہب یا عقیدے کی آزادی کو بطور بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے اور اس ضمن میں مناسب قانون بھی نافذ ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے تمام شہریوں کو مذہبی فرق کے بغیر مکمل اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے اور کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا۔ ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان حکومت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا خود کو پابند سمجھتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||