BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 February, 2005, 20:06 GMT 01:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عاشورہ کے موقع پر گرفتاریاں

کوئٹہ (فائل فوٹو)
بلوچستان میں1999 سے اب تک کوئی 134 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔
محرم الحرام میں حفاظتی اقدامات کے طور پر پولیس نے کوئٹہ میں مزید گیارہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

کوئٹہ شہر کے پولیس افسر پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ شہر کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور حالیہ گرفتاریوں کے بعد مزید گرفتاریوں کی توقع ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان میں بیشتر کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔

بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری یعقوب نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس نے مستونگ سے ایک شخص کو گرفتار کیا جس کی شناخت ابھی ظاہر نہیں کی جا سکتی اس کے علاوہ کوئٹہ میں حفاظتی اقدام کے طور پر کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں اور عاشورہ کے جلوس کے راستوں کو مکمل طور پر سیل کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ پانچ ہزار پولیس اہلکار کو تعینات کیا گیا ہے جن میں سے کچھ جلوس کے ساتھ رہیں گے کچھ جلوس کے راستوں اور گلیوں میں تعینات رہیں گے۔ راستوں کو گاڑیوں سے بند کر دیا جائے گا تاکہ کوئی شخص خودکش حملے کے لیے کوئی گاڑی استعمال کرتے ہوئے زبردستی اند نہ آسکے اس کے علاوہ فوج اور نیم فوجی دستوں کو چوکس رکھا جائے گا۔

یہاں زرائع ابلاغ کے دفاتر میں ایک نا معلوم شخص سے ٹیلیفون پر اپنا نام کیپٹن ضرار بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ لشکر جھنگوی کا نمائندہ ہے۔ کیپٹن ضرار نے کہا ہے کہ گزشتہ رات اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سےاڑانے والے ان کے کارکن تھے اور وہ اپنے مشن پر تھے۔

آئی جی بلوچستان چوہدری یعقوب نے کہا ہے کہ جمعہ اور جمعرات کی درمیانی شب پولیس نے ایک مکان پر چھاپہ مارا جہاں دو افراد نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس مکان سے ملنے والے اسلحے پر لشکر جھنگوی کا نام اور نعرے لکھے ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس مرتبہ حالات قابو میں رکھنے کے لیے اہل تشیع سے اہم اجلاس میں انھیں کہا گیا ہے کہ وہ لوگ اسلحہ ساتھ نہ لائیں کیوں کہ گزشتہ سال حملہ آوروں کے علاوہ دیگر لوگوں نے فائرنگ کرکے حالات کو خراب کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال عاشورہ کے جلوس پر نا معلوم افراد نے حملہ کر دیا تھا جس میں لگ بھگ پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بلوچستان میں انیس سو ننانوے سے اب تک کوئی ایک سو چونتیس افراد ہلاک اور پانچ سو سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد