BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 March, 2004, 11:14 GMT 16:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تشدد روکنے میں مدد لیں گے‘

کوئٹہ
کوئٹہ میں حالیہ تشدد کے واقعات میں درجنوں ہلاک ہوئے تھے۔
وزیراعلٰی بلوچستان جام محمد یوسف نے کہا ہے عاشورہ کے ماتمی جلوس پر حملے اور املاک کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات کی چھان بین جاری ہے اور تمام معاملات طے ہونے کے بعد ایک اعلی جرگہ بلایا جائے گا جس میں علماء اور قبائلی قائدین کے ساتھ ساتھ دیگر افراد کو بلایا جائے گا تاکہ آئندہ فرقہ وارانہ تشدد اور بد امنی کے واقعات کی روک تھام کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

بدھ کے روز کوئٹہ میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نہ کہا ہے کہ عدالتی کمیشن واقعات کی تحقیقات کر رہا ہے جس کی سربراہی ہائی کورٹ کے جج کر رہے ہیں اس رپورٹ کے پیش کیے جانے کے بعد اس پر عمل درآمد کے لیے بھی ایک کمیٹی قائم کی جائے گی جو اس سارے عمل کو یقینی بنائے گی۔

انھوں نے کہا ہے کہ اعلی جرگہ میں تمام مکاتب فکر کے افراد شامل ہوں گے اس میں تمام مسلک سے تعلق رکھنے علماء کرام اور قبائلی قائدین مدعو کیے جائیں گے تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے انھوں نے کہا ہے کہ یہ جرگہ موجودہ حالات طے ہونے کے بعد طلب کیا جائے گا۔

سیاسی جماعتوں کو مدعو کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو موجودہ صورتحال کے حوالے سے کمیٹییوں میں شامل کیا گیا ہے جبکہ تمام جماعتوں کا اجلاس بھی طلب کیا جا سکتا ہے لیکن ایسے اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے قائدین اور اراکین اسمبلی صدر مملکت کے خلاف باتیں کرتے ہیں جو صحیح نہیں ہے انھوں نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین اور اراکین کو چاہیے کہ وہ مثبت تنقید کریں اور بہتر تجاویز دیں نہ کہ صدر مملکت کے خلاف بیان بازی شروع کر دیں۔

جام محمد یوسف نے کہا ہے کہ آٹھ جون اور چار جولائی کے واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے مذید تفتیش کی جا رہی ہے ۔ انھوں نے کہا ہے ان ملزمان نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ان وارداتوں میں شام تھے اور اس کے لئے یہاں سیف ہاؤس بنایا گیا تھا جس کے لیے رقم غیر ممالک نے دی تھی ۔ اس کا اعلان انسپکٹر جنرل پولیس شعیب سڈل نے بھی گزشتہ روز کیا تھا لیکن اس بارے میں مذید تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

جام یوسف نے کہا ہے کہ کہ اس وقت پولیس کے پاس جدید سہولیات نہیں ہیں یہاں تک کہ پولیس افسروں کی بھی کمی پائی جاتی ہے۔ اس بارے میں وفاقی حکومت سے رابطہ قائم کیا گیا ہے ۔ انھوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ باہر سے عملہ بلانے کے بعد ہم پر یہ تنقید کی جاتی ہےکہ یہاں باہر سے افسران کو تعینات کیا جاتا ہے اور مقامی افراد کی حق تلفی کی جاتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد