BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 March, 2004, 20:00 GMT 01:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: ایک درجن مشتبہ افراد گرفتار

کوئٹہ
کوئٹہ میں ماتمی جلوس پر ہونے والی فائرنگ میں چالیس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے
عاشورہ کے ماتمی جلوس پر حملے کے حوالے سے پولیس نے کوئٹہ اور دیگر علاقوں سے لگ بھگ ایک درجن افراد کو گرفتار کیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ان میں سے کچھ کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

تفتیش میں شامل افراد میں زیادہ اہمیت چار افراد کو دی جارہی ہے جن میں سے دو، ایک کالعدم تنظیم کے ارکان بتائے جارہے ہیں۔

وزیراعلٰی بلوچستان جام محمد یوسف نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں جن کی تفصیلات کچھ دنوں میں سامنے آجائیں گی۔

احتجاج
شیعہ افراد کی ہلاکتوں کے خلاف عوامی سطح پر زبر دست احتجاج کیا گیا تھا

ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نے بتایا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد میں کالعدم تنظیم کے وہ ارکان بھی شامل ہیں جنھیں پولیس رپورٹ میں نامزد کیا گیا ہے تاہم انھوں نے نام بتانے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے پولیس نے گزشتہ روز پانچ افراد کو کوئٹہ کے سریاب کے علاقے اور تین افراد کو بولان کے علاقے سے گرفتار کیا ہے ۔

ایک پولیس افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس وقت جلوس پر حملے کے حوالے سے چار افراد پر توجہ مرکوز ہے جنہیں گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے ۔ باقی افراد کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ان چار افراد میں دو کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جاتا ہے تاہم تاحال کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔

اس کے علاوہ پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں اور مطلوب افراد کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔

یاد رہے کہ ماتمی جلوس پر حملہ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کے رشتہ داروں نے سٹی تھانے میں مقدمہ درج کرادیا ہے جس میں آٹھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں ایک کالعدم تنظیم کے ارکان بھی شامل ہیں۔

اس سے پہلے شیعہ برادری نے دو علیحدہ علیحدہ مقدمات رجسٹرد کرنے کے لیے درخواستیں دی تھیں ایک درخواست میں پولیس افسران کو نامزد کیا گیا تھا لیکن تاحال اس درخواست پر مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔

وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے اپنی اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ شیعہ برادری نے پولیس اور انسداد دہشت گردی کی فورس پر الزام لگایا ہے کہ انھوں کئی افراد پر گولی چلائی ہے جس کے لیے انکوائری کی جا رہی ہے اور اس میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں بھی شامل ہوں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ یہ تحقیقات ہائئ کورٹ کے جج کر رہے ہیں اور اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کریں گے یاد رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں امام بارگا ہ پر حملے کے حوالے سے ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا جس کی رپورٹ تاحال عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد