BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 March, 2004, 05:16 GMT 10:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آخر کب تک یہ مذاق ہوتا رہےگا؟

کوئٹہ
غم زدہ پسماندگان
’میرا تیرہ سالہ بچہ صبح ماتمی جلوس میں شرکت کے لیے نکلا تھا اور سہ پہر تین بجے اس کی تعش گھر پہنچی۔ اب میرا دل جینے کو نہیں چاہتا‘۔

یہ الفاظ ہیں برکت علی کے جو ایک ریٹائرڈ سیکش افسر ہیں اور اپنے بیٹے کی میت کے پاس بیٹھے ماتم کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ اور تو کچھ نہیں کر سکتے لیکن یہاں بیٹھے بیٹھے کم از کم ان حکمرانوں کو بددعائیں تو دے سکتے ہیں کہ ان کا بھی یہی حال ہو جو اب ان کا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ میت کے پاس پنکھے لگا کر بیٹھے ہیں اور تدفین کا انتطار ہے۔

یہ اور اسی طرح کے خیالات کوئٹہ میں ان تمام لوگوں کے ہیں جن کے پیارے ماتمی جلوس پر حملے کے نتیجے میں اور شہر میں فسادات کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

آہیں اور سسکیاں لیتے لوگ غم زدہ ہیں ان کے بس میں کچھ بھی نہیں ہے ماسوائے اس کے کہ وہ اب یہ غم برداشت کریں اور اس غم کے ساتھ باقی زندگی کاٹیں۔

لیاقت علی نے بتایا ہے کہ وہ جلوس کے ساتھ پیچھے آرہا تھا اس کا بہنوئی اور بھانجا آگے جا رہے تھے کہ اچانک افراتفری مچ گئی، کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔

لیاقت علی نے کہا کہ کسی نے اسے بتایا کہ اس کا بہنوئی ہلاک ہو گیا ہے وہ بھاگتا ہوا وہاں پہنچا تو بہنوئی کو خون میں لت پت پایا اور بھانجے کو سر میں گولی لگی تھی اسے ہسپتال پہنچایا گیا جہاں اب بھی وہ زخمی حالت میں پڑا ہے۔

برکت علی کے بقول اس کا بیٹا اس کے مستقبل کا سہارا تھا جو اب نہیں رہا لیاقت علی نے بتایا کہ اس کا بہنوئی اپنے بچوں کا کفیل تھا جو اب نہیں رہا۔

News image
ایک مذاق یہ بھی ہے کہ حفاظتی انتظامات سانحوں کے بعد انتہائی کڑے کر دیے جاتے ہیں

اس طرح پچاس کے لگ بھگ ہلاک ہونے والے لوگوں کے ساتھ کتنے افراد جڑے ہوئے ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے ان لوگوں پر انحصار کرتے رہے ہیں اور اب ان کے یہ سہارے نہیں رہے۔

اس طرح کے واقعات کے بعد حکومت متاثرین کے لیے معاوضے کا اعلان کر دیتی ہے جو کچھ روپے ہوتے ہیں۔ ایک لاکھ، دو لاکھ یا چند لاکھ روپے، جیسے انسانی زندگی کی قیمت طے ہو چکی ہو۔

گزشتہ سال آٹھ جون اور چار جولائی کے واقعات کے بعد لواحقین کے لیے کچھ روپوں کا اعلان کردیا لیکن وہ خاندان اب کس حال سے گزر رہے ہیں کبھی کسی نہ نہیں پوچھا۔ ان میں سے کسی کے بچے نہیں ہیں تو کئی یتم ہیں اور کئی بیوائیں بے سہارا ہیں۔

اور ان سب کے چہرے صرف ایک ہی سوال پوچھتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں: کہ انسانی زندگیوں سے یہ مذاق آخر کب تک؟

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد