BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 December, 2004, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لشکر جھنگوی کے ارکان گرفتار‘

ملزمان
ملزمان محرم میں تخریبی کارروائیاں کرنا چاہتے تھے: پولیس
ملتان پولیس نے کالعدم انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی سے مُبینہ طور پر تعلق رکھنے والے پانچ ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے جِن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تنظیم کے لیے مالی وسائل اکھٹے کرنے کی خاطر رہزنی اور ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث تھے ۔

ملتان کے ضلعی پولیس افسر سکندر حیات نے پیر کے روز ایک اخباری کانفرنس کے دوران لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے ملزمان قاری عبدالحمید، حاجی صادق، بلال لانگ، بلال بھٹی اور فیض رسول کی گرفتاری کا اعلان کیا ۔

پولیس افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزمان گزشتہ ماہ نومبر میں شجاع آباد کے علاقے میں ہونے والی ڈکیتی کی ایک ایسی ناکام واردات میں بھی ملوث تھے جِس میں اُن کے ایک ساتھی سمیت چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ چار نومبر کے روز پولیس کی وردیوں میں ملبوس پانچ افراد نےشجاع آباد صدر پولیس کے علاقے میں ایک وین پر حملہ کر دیا تھا جِس میں ایک کاٹن جننگ فیکٹری کا عملہ، محافظ تاج محمد سمیت انُچاس لاکھ روپے بینکوں سے نکلوا کر لا رہا تھا۔

حملہ آوروں کی فائرنگ کے جواب میں تاج محمد نے بھی فائرنگ کی تھی۔ فائرنگ کے تبادلے میں وین ڈرائیور اللہ دتہ، تاج محمد اور حملہ آوروں کا ایک ساتھی جس کی شناخت بعد میں اوکاڑہ کے تنویر احمد کے طور پر ہوئی موقع پر ہلاک ہو گۓ تھے۔

حملہ آوروں نے بعد میں موقع سے فرار ہوتے ہوئے قریب سے گزرنے والے ایک شخص احمد بخش سے اُس کی موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش میں اسے بھی گولی مار کر ہلاک کردیا تھا ۔

ہلاک ہونے والے حملہ آور کی شناخت کے بعد پولیس اُن کے باقی ساتھیوں تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہوگئی۔ ضلعی پولیس افسر نے بتایا کہ تفتیش کے دوران گرفتار ملزموں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ لشکرِ جھنگوی کی اعلیٰ قیادت کے حکم پر ڈکیتی اور رہزنی کی وارداتیں کر رہے تھےتاکہ آنے والے محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں شیعہ ماتمی جلوسوں کو تخریبی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاسکے۔

ملزموں کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ ملزم بلال لانگ کے بارے بتایا گیا ہے کہ وہ چھبیس دسمبر اُنیس سو ستانوے کو ڈیرہ غازی خان کی سنٹرل جیل سےلشکرِ جھنگوی کے انتہائی خطرناک کارکنوں اعجاز ججی، طارق ٹیپو، عزیز کھٹانہ، شاہ نواز کلہوڑا اور لاہور میں ایرانی سفارتکار آقائے صادق گنجی کے قتل میں سزا یافتہ ذ کی اللہ کو فرار کرانے میں ملوث تھے۔

ضلِعی پولیس افسر نے بتایا کہ ملزموں کی ابتدائی تفتیش سے لشکرِ جھنگوی کے کراچی، لاہور اور ملک کے دوسرے شہروں میں نیٹ ورک کے بارے میں مفید معلومات حاصل ہوئی ہیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملزموں کے باقی ساتھیوں کی گرفتاری اور اُن کے نیٹ ورک کو توڑنے میں آئی ایس آئی اور انٹیلی جنس بیورو بھی پولیس کی مدد کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد