BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 March, 2005, 21:00 GMT 02:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرقہ ورانہ تشدد کا اہم ملزم گرفتار

فرقہ ورانہ تشدد
فرقہ ورانہ تشدد میں اب تک سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں
کوئٹہ میں پولیس نے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے ایک اہم رکن کو گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں پولیس نے بتایا ہے کہ وہ مختلف مذہبی بنیاد پر قتل کے واقعات میں ملوث رہا ہے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ رمضان مینگل لشکر جھنگوی کا ایک اہم رکن ہے اور اسے جمعہ کو نیو سریاب کے علاقے میں گرفتار کیا گیا ہے جہاں وہ بھیس بدل کر رہ رہا تھا۔ رمضان مینگل گھر کے قریب تھا کہ پولیس نے اسے گرفتار کیا ہے۔

پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں اہل تشیع پر کیے گئے کئی حملوں میں ملزم پولیس کو مطلوب تھا۔ انھوں نے نمایاں واقعات کا زکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال عاشورہ کے جلوس پر حملے اور دیگر واقعات میں رمضان مینگل کسی نہ کسی حوالے سے ملوث رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ کئی بڑی واداتوں کا ماسٹر مائینڈ تھا۔ گزشتہ سال عاشورہ کے جلوس پر حملے میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

انھوں نے کہا ہے کہ رمضان کی گرفتاری کے لیے پولیس نے کوئی دس لاکھ روپے کا اعلان کیا تھا تا ہم انھوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں تفصیلات بعد میں فراہم کر دی جائیں گی۔

کوئٹہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں اب تک ایک سو تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ واقعات انیس سو ننانوے کے بعد پیش آئے ہیں۔ ان میں بڑے واقعات عاشورہ کے جلوس پر حملہ امام بارگاہ میں نمازیوں پر حملہ اور زیر تربیت پولیس اہلکاروں پر حملے شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد