BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 March, 2004, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاک شدگان کی تدفین میں تاخیر

کوئٹہ
شہر سے باہر کے کچھ علاقوں میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن امام بارگاہوں پر اب بھی محافظ تعینات ہیں
عاشورہ کے روز ماتمی جلوس پر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کےجنازے بدھ کے روز نہیں اٹھائے جاسکے جبکہ ہلاک شدگان کی تعداد ترپن ہو گئی ہے۔

شیعہ قائدین کے مطابق یہ جنازے کل جمعرات کی صبح اٹھائے جائیں گے ۔

قائدین کے مطابق انھوں نے حکومت کے سامنے کچھ مطالبات رکھے ہیں جن کے تسلیم ہونے کا انتظار ہے۔

شیعہ لیڈر علامہ یعقوب علی توسلی نے کہا ہے کہ انھوں نے حکومت کے سامنے مطالبات رکھے ہیں جن کے تسلیم ہونے تک وہ جنازے نہیں اٹھائیں گے۔

ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے چیئرمین جواد ایثار نے بتایا ہے کہ شیعہ برادری کا اجلاس جاری ہے جس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے انھوں نے کہا ہے کہ ایک گروپ فوری تدفین کے حق میں ہے جبکہ دوسرا گروپ کچھ مطالبے لیے بیٹھا ہے۔

شیعہ برادری کے زرائع نے بتایا ہے ان مطالبات میں بعض صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کی معطلی اور ان کے خلاف کاروائی جیسے مطالبات شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے ان مطالبات پر سب لوگ متفق نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ شہر میں کرفیو نافذ ہے شہر سے باہر کے کچھ علاقوں میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے شیعہ برادی کے علاقے علمدار روڈ کی طرف جانے والے تمام راستوں پر فوجی اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں جبکہ شہر میں گشت بھی جاری ہے۔

ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ کرفیو میں وقفے کا فیصلہ تدفین کے بعد کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد