ہلاک شدگان کی تدفین میں تاخیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عاشورہ کے روز ماتمی جلوس پر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کےجنازے بدھ کے روز نہیں اٹھائے جاسکے جبکہ ہلاک شدگان کی تعداد ترپن ہو گئی ہے۔ شیعہ قائدین کے مطابق یہ جنازے کل جمعرات کی صبح اٹھائے جائیں گے ۔ قائدین کے مطابق انھوں نے حکومت کے سامنے کچھ مطالبات رکھے ہیں جن کے تسلیم ہونے کا انتظار ہے۔ شیعہ لیڈر علامہ یعقوب علی توسلی نے کہا ہے کہ انھوں نے حکومت کے سامنے مطالبات رکھے ہیں جن کے تسلیم ہونے تک وہ جنازے نہیں اٹھائیں گے۔ ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے چیئرمین جواد ایثار نے بتایا ہے کہ شیعہ برادری کا اجلاس جاری ہے جس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے انھوں نے کہا ہے کہ ایک گروپ فوری تدفین کے حق میں ہے جبکہ دوسرا گروپ کچھ مطالبے لیے بیٹھا ہے۔ شیعہ برادری کے زرائع نے بتایا ہے ان مطالبات میں بعض صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کی معطلی اور ان کے خلاف کاروائی جیسے مطالبات شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے ان مطالبات پر سب لوگ متفق نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں کرفیو نافذ ہے شہر سے باہر کے کچھ علاقوں میں نرمی کا اعلان کیا گیا ہے شیعہ برادی کے علاقے علمدار روڈ کی طرف جانے والے تمام راستوں پر فوجی اور نیم فوجی دستے تعینات ہیں جبکہ شہر میں گشت بھی جاری ہے۔ ناظم کوئٹہ رحیم کاکڑ نے کہا ہے کہ کرفیو میں وقفے کا فیصلہ تدفین کے بعد کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||