BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 June, 2005, 11:54 GMT 16:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوکاڑہ:مدرسہ میں قتل، مظاہرہ

لاہور میں ایک قتل
پاکستان میں سات سال میں چھیاسٹھ ہزار افراد قتل ہوئے: ایک رپورٹ
اوکاڑہ میں پولیس نے پیر کرمانوالہ کے مدرسہ میں ایک نوجوان لڑکے کو تشدد کرکے قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں تین افراد بھی گرفتار کیے ہیں۔

اس سے قبل قتل کے بعد پیر کی سہ پہر سینکڑوں لوگوں نےشہر سےگزرنے والی جی ٹی روڈ بند کرکے ٹریفک بلاک کردی تھی۔ ضلعی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر جمیل خود نے کہا کہ لوگ منصفانہ تفتیش کا مطالبہ کر رہے تھے اور انہوں نے ملزموں کی گرفتاری کے بعد احتجاج ختم کر دیا۔

سینکڑوں لوگ پوری دوپہر اوکاڑہ کے دیپال پور چوک میں جمع رہے جہاں نوجوان مقتول حافظ عبدالجبار کی لاش بھی رکھی ہوئی تھی۔

اٹھارہ سالہ حافظ قران عبدالجبار اوکاڑہ شہر کے صمد محلہ میں رہتے تھے اور کرمانوالہ مدرسہ میں طالبعلم تھے۔ ان کے بھائی عباس کا کہنا ہے کہ مدرسہ کی انتظامیہ نے عبدالجبار پر الزام لگایا تھا کہ اس نے مدرسہ کے چندہ کے نام پر ڈیڑھ لاکھ روپے جمع کر کے خود رکھ لیے۔

مقتول کے بھائی کے مطابق ایک ہفتہ پہلے مدرسہ کےلوگ اس کے گھر آئے اور مقتول عبدالجبار کو ساتھ لے جا کر مدرسہ میں بند کر دیا۔ ان کے مطابق کل کچھ لوگ جبّار کی لاش ان کے گھر کے پاس چھوڑ کر چلے گئے اور ان سے کہا گیا کہ پولیس کو رپورٹ کی تو انہیں ایسی اور لاشیں ملیں گی۔

محلے کے درجنوں لڑکے اور مقتول کے ورثاء لاش کو لے کر اوکاڑہ کے ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال لے گئے اور اس کے طبی معائنہ کا مطالبہ کیا تاہم ان کےمطابق ابتدائی طور پر ہسپتال والے طبی معائنہ کرنے سے گریزاں تھے اور صدر پولیس بھی مقدمہ درج کرنے میں تاخیری حربوں سے سے کام لے رہی تھی۔

آج ہسپتال نے بالآخر لاش کا طبی معائنہ کرکے رپورٹ دے دی جس میں کہا گیا ہے کہ لڑکے کے ساتھ جنسی بدفعلی کی گئی، اسے بجلی کے جھٹکے لگائےگئے اور اس پر تشدد کا کیا گیا۔ ورثا کےمطابق جبار کے جسم پر کئی جگہ سے گوشت ادھڑا ہوا ہے۔

تاہم پولیس نے نصف شب کے وقت عبدالجبار کے قتل کا مقدمہ درج کیا جس میں کرمانوالہ کے گدی نشین پیر طیب بخاری کے ساتھی ثنا اللہ اور دو نامعلوم لوگوں کو ملزم نامزد کیا گیا۔ تاہم ورثاء اور مظاہرین پولیس سے کرمانوالہ کے گدی نشین پیر طیب بخاری کا نام بھی ایف آئی آر میں درج کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے لاش سڑک پر رکھ کر ٹریفک بند کردی تھی۔ سڑک پر دکانیں اور کاروبار بند ہوگیا تھا۔ مظاہرین نے جگہ جگہ ٹائروں سے آگ لگائی ہوئی اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد