مزدور ہلاک: چار دن بعد مقدمہ درج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ اتوار کے روز پندرہ مئی کو لاہور کے علاقہ مصری شاہ میں ایک گودام میں دھماکہ سے دو مزدور ہلاک ہوگئے تھے اور چار زخمی ہوئے لیکن لاہور پولیس نے اس کا مقدمہ آج بدھ کو چوتھے روز درج کیا ہے۔ اتوار کے روز جب یہ واقعہ ہوا تو لاہور پولیس نے اس کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا تھا لیکن آج دو مزدوروں کے قتل کا مقدمہ گودام کے مالک زبیر عرف زبیری کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ علاقہ کے لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مصری شاہ میں لوہے کے گودام ہیں جہاں اسکریپ کا مال رکھا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک گودام لاہور کی معروف شخصیت کوما قصائی کے بیٹے زبیر عرف زبیری کی ملکیت بتایا جاتا ہے۔ اس گودام میں جب دھماکہ کی آواز آئی تو اہل علاقہ کے مطابق لوگ جمع ہوگئے اور انہوں نے دیکھا کہ وہاں سے کچھ لوگوں کو زخمی حالت میں لے جایا گیا۔ اتوار کے روز بی بی سی کے اس نمائندے نے پولیس کو بار بار فون کرکے اس واقعہ کی تصدیق چاہی تو پولیس کنٹرول لاہور اور علاقہ کی پولیس نے کہا کہ ان کے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں۔ لاہور کے ایس ایس پی آپریشن آفتاب چیمہ کے حکم پر آج اس معاملہ کی ایک بار پھر تفتیش شروع ہوئی تو اس واقعہ کی تصدیق ہوگئی اور پولیس نے دو افراد کے قتل کا مقدمہ گودام کے مالک زبیر عرف زبیری کے خلاف درج کرلیا۔ ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ تین پولیس افسروں نے اس واقعہ کو دبایا۔ ان کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس ان پولیس افسروں کے خلاف کاروائی شروع کررہی ہے۔ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گودام میں موجود خطرناک جنگی اسکریپ کو چھپانے کے لیے دو مزدوروں کی ہلاکت کا معاملہ دبایا گیا۔ علاقہ کے لوگو ں کا کہنا ہے کہ اس گودام میں اور یہاں موجود دوسرے گوداموں میں افغان جنگ سے آیا ہوا اسکریپ رکھا جاتا ہے جس میں ایسا اسلحہ بھی شامل ہے جو کسی وقت پھٹ سکتا ہے اور پورا علاقہ بارود کے ڈھیر کی طرح اڑ سکتا ہے۔ مصری شاہ کے اہل محلہ نے بتایا کہ بڑے بڑے ٹرالر رات کے وقت یہ مال بلوچستان اور افغانستان کی سرحد پر واقع قصبہ چمن سے لاہور لاتے ہیں۔ پولیس ہلاک ہونے والے مزدوروں اور ملزم پولسی افسروں کے نام نہیں بتارہی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||