رینجرز کا تشدد، سینیٹ کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین نے کراچی میں ریجنرز کے اہلکاروں کی جانب سے شہریوں پر تشدد کو غیر مہذب قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم نے کہا کہ حکومت نے اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور تحقیقات کر کے ذمہ دار افسروں اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ جمعہ کی صبح سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو وقفہ سوالات کے بعد پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ کراچی کے شہریوں کو زمین پر الٹا لیٹا کر رینجرز کے اہلکاروں نے جوتوں سے روندا ہے جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اخبارات میں شائع ہونے والی تصاویر ایوان میں لہرائیں اور سوال کیا کہ کیا یہ مہذب رویہ ہے؟ ان کے مطابق عراق کی ابوغریب جیل اور امریکہ کے گوانتانامو بے قید خانے میں پردے کے پیچھے بدسلوکی کی گئی لیکن پاکستان میں اپنے ہی شہریوں سے سیکورٹی اہلکار بدترین سلوک کر رہے ہیں۔ ایوان میں اس پر شور پڑ گیا اور ابتدا میں وزیر مملکت شہزاد وسیم نے کہا کہ انہیں علم نہیں ہے اور وہ معلومات حاصل کر کے ایوان کو مطلع کریں گے۔ وزیر کے جواب پر قائد حزب اختلاف رضا ربانی نے سخت احتجاج کیا اور کہا کہ کراچی کے شہریوں کی قمیضیں اتار کر آنکھیں باندھ کر ان کو رینجرز اہلکار بوٹوں سے روند رہے ہیں اور حکومت ٹال مٹول کر رہی ہے۔ ان کی حمایت میں دیگر اراکین نے بھی بولنا شروع کردیا۔ حکومت کے وزیر سینیٹر بابر غوری جن کا تعلق حکومت کی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ سے ہے نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی اور ریجنرز کے سلوک کو غیر مہذب قرار دیا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حکومت نے اس کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور صدر اور وزیر اعظم کو انہوں نے تصویریں بھیجی ہیں۔ سینیٹر بابر غوری کے اس موقف کے بعد وزارت داخلہ کے وزیر مملکت شہزاد وسیم نے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کرانے کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ کراچی میں جماعت اسلامی کے ایک رہنما کے قتل کے خلاف متحدہ مجلس عمل نے دو جون کو ہڑتال کی اپیل کی تھی۔ اس موقع پر کچھ شہریوں کو ریجرز نے پکڑ کر سخت تشدد کا نشانہ بنایا اور جب جمعہ کو اخبارات میں وہ تصاویر شائع ہوئیں تو ایوان میں یہ احتجاج کیا گیا۔ سینیٹ کا اجلاس اب پیر تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||