پانی چوری روکنے کے لیے رینجرز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں زرعی پانی کی چوکیداری کے لیے رینجرز پہنچ گئی ہے- حکومت سندھ کے اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے جمڑاؤ - مٹھڑاؤ کینالوں اور سکھر ریجن میں نہروں اور شاخوں ( واٹر ویز) پر رینجرز تعینات کردی گئی ہے- سندھ میں پانی کی قلت اور اس کے ساتھ بااثر زمینداروں کی جانب سے پانی کی چوری کی بڑھتی ہوئی شکایات کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے- صوبے میں پانی کی قلت کے خلاف مظاہرے اور احتجاج ہوتے رہے ہیں- چیف انجنیئر سکھر بیراج نورمحمد شاھ نے آن لائن کو بتایا کہ نارا کینال میں پانی کی قلت کے بعد درست تقسیم نہیں ہو رہی تھی جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے- انہوں نے کہا کہ رینجرز صرف نگرانی کرے گی- یاد رہے کہ میرپورخاص ضلع میں وزیراعلی سندھ کی زمینیں ہیں جو کہ ٹیل پر واقع ہونے کی وجہ سے پانی کی قلت کا شکار رہی ہیں- مشہور کاچھیلو فارم کے مالکان نے دوسرے کاشتکاروں کے ساتھ ملکر پانی کی کمی کے خلاف پچھلے دنوں تین روز تک روڈ بلاک کیا تھا-
چیف انجنیئر کے مطابق اپر سندھ میں امن امان کا مسئلہ ہے وہاں لوگ مزاحمت کرتے ہیں- اس لیے رینجرز کی مدد لی گئی ہے- انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع ناظم نوابشاہ مسز فریال تالپور نے پانی کی چوری روکنے کے لئے رینجرز طلب کی تھی لیکن فی الحال ان کی درخواست مسترد کردی گئی ہے- سکھر ریجن میں شہباز رینجرز کے اہلکاروں نے نہروں اور شاخوں پر گشت شروع کردیا ہے- شہباز رینجرز کے میجر عدنان کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ان کے کمانڈنٹ کی محکمہ آبپاشی کے سینئر افسران سے ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے چوری والے مقامات کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں- تاہم انہوں نے بتایا کہ رینجرز کے اہلکار آبپاشی اہلکاروں کے ساتھ گشت کرینگے- میرپورخاص اور سانگھڑ اضلاع کی زمینوں کو سیراب کرنے والی نہر جمڑاؤ کینال سے پانی کی چوری روکنے کے لیے رینجرز کے حوالے کردیا گیا ہے- رینجرز کے افسران نے حیدرآباد سے میرپورخاص پہنچ کر کینال کا معائنہ کیا- اور متعلقہ افسران سے بریفنگ لی-
ادھر ضلع سانگھڑ میں بھی رینجرز اہلکاروں نے پانی کی چوکیداری کا انتظام سنبھال لیا ہے- اس سے قبل اندرون سندھ خواہ کراچی میں امن امان اور دہشت گردی کے حوالے سے رینجرز تعینات ہے- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||