بھارت پرانسانی سمگلنگ کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈائریکٹر جنرل رینجرز پاکستان میجر جنرل حسین مہدی نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت کے راستے پاکستان میں انسانی سمگلنگ ہوتی ہے اور بھارت سے بنگلہ دیشی، نیپالی اور بہاری غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کےساتھ اپنی سرحد پر خار دار باڑ لگا رکھی ہے جس میں مختلف مقامات پر دروازے بھی ہیں تاہم ان راستوں کا کنٹرول صرف بھارت کے پاس ہے۔ وہ بدھ کو رینجرز ھیڈ کواٹرز لاہور میں پاکستان کے یوم شہداء کے سلسلے میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں اخبار نویسوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ پاکستان میں زمینی سرحدوں کی حفاظت اور نگرانی کے لیے تعینات فورس کو رینجرز کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی سیکیورٹی فورس یعنی ’بی ایس ایف ‘ کو فائرنگ کی مشق کرنے سے قبل پاکستان رینجرز کو اپنے شیڈول سے آگاہ کرنا چاہیے تاکہ کوئی بے گناہ پاکستانی کاشتکار ان کی فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک نہ ہوجاۓ۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایاکہ حالیہ دنوں میں کتنے پاکستانی زمیندار اس فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوۓ ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے کہا ہےکہ بھارت کے شہر چندی گڑھ میں کچھ عرصے بعد ہونے والے مقررہ مذاکرات میں بھارتی باڈر سیکورٹی فورس یعنی’بی ایس ایف‘ سے ٹھوس حوالوں سے بات کی جاۓ گی۔ انہوں نے بتایاکہ ان مذاکرات میں انسانی سمگلنگ کے علاوہ غلطی سے زیرو لائن میں جانے والے پاکستانی شہریوں کو قید کر لینے کے بارے میں بات کی جاۓ گی اور پاکستان اس بارے میں اپنے نکتہ نظر سے آگاہ کرےگا۔ انہوں نے کہا کہ’ہیروئن کی تیاری کے لیے مبینہ طور پر بھارت سے سمگل ہونے والا ایک خاص کیمیکل بھی آئندہ مذاکرات کا ایک موضوع ہوگا‘۔ ڈی جی رینجرز نے کہاکہ پاکستان میں بھارت کے راستے دہشت گردوں کے داخلے کے تمام راستے اور دروازے بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے پاس ہیں اور چندی گڑھ میں ہونے والے مذاکرات میں اس بارے میں بھی بات ہوگی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدوں پر تعینات فورسز کے حکام کے مابین سال میں دوبار مذاکرات ہوتے ہیں۔ چند ماہ قبل بھارتی وفد نے پاکستان آکر مذاکرات کیے تھے اب کچھ عرصے بعد پاکستانی حکام مذاکرات کے لیے بھارت جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||