BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 July, 2004, 22:58 GMT 03:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رینجرز پر حملہ، دو اہلکارہلاک

رینجرز کراچی میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں
رینجرز کراچی میں بھی خدمات انجام دے رہے ہیں
پنجاب کے دور اُفتادہ ضِلع راجن پور کے قبائلی علاقہ میں پیر کے روز نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے نیم فوجی فورس رینجرز کے دو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں کے نام نائیک شریف اور سپاہی مظّفر اقبال معلوم ہوۓ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رینجرز کا ایک دستہ پنجاب اور بلوچستان کی سرحدی پٹی کے ساتھ بِچھی ہوئی باروُدی سُرنگوں کی صفائی کا کام کرنے میں مصروفِ عمل تھا کہ اُس پر مغربی جانب سے شدّید فائرنگ شروع ہو گئی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے رینجرز پر راکٹ بھی برساۓ ۔ حملہ کے نتیجے میں نائیک شریف موقع پر جبکہ سپاہی مظّفر ہسپتال جاکر ہلاک ہوگۓ۔

تاہم رینجرز نے جب جوابی کارروائی کی تو حملہ آور علاقہ چھوڑ کر فرار ہوگۓ۔ حملہ آوروں کے جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

حملہ آوروں کی باقاعدہ شناخت تو نہیں ہو پائی لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے بگٹی قبیلے پر شک کا اظہار کر رہے ہیں۔ راجن پور کا قبائلی علاقہ پچھلے کچھ عرصہ سے بگٹی اور مزاری قبائل کے جھگڑوں کے باعث خبروں میں ہے۔

پچھلے برس دونوں قبائل کی لڑائیوں کے نتیجہ میں علاقہ سے گذرنے والی گیس پائپ لائنز متعدد مرتبہ متاثر ہوئیں جِس کے باعث پنجاب اور سرحد کے بیشتر علاقوں میں گھریلو اور صنعتی صارفین کو قدرتی گیس کی رسد میں معطلی کی شکل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بعد ازاں قانون کی عملدآری کے لیے علاقہ میں رینجرز کی ایک بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ راجن پور کے ضِلعی پولیس افسر شاہد اقبال نے بتایا کہ موجودہ سال کے آغاز میں ایک صدارتی حکم کے تحت راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی علاقوں کو غیر قبائلی قرار دے دیا گیا تھا۔

اِسی فیصلہ کی روشنی میں یہ طے کیا گیا کہ راجن پور کے سابقہ قبائلی علاقہ میں دو پولیس اسٹیشن اور پندرہ پولیس چوکیاں قائم کی جائیں۔ تاہم حکومت اِس تجویز کو عملی شکل دینے میں شدّید مشکلات کا شکار ہے۔

شاہد اقبال کے مطابق علاقہ میں جابجا باروُدی سُرنگیں بچھی ہوئیں ہیں اور رینجرز اہلکار اِن کی صفائی کے عمل میں متعدد بار حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔

اُن کہنا تھا چونکہ بگٹی اور مزاری دونوں قبائل علاقہ کو پولیس کے حوالے کرنے کے مخالف ہیں اِس لیے یہ کہنا ذرا مشکل ہے کہ باروُدی سُرنگیں بچھانے اور رینجرز پر حملوں کے واقعات میں کونسا قبیلہ زیادہ متحرک ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد