لاہور میں بچے کا سفاکانہ قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں ایک مبینہ جادوگر اور اس کے ساتھیوں نے ایک سات سالہ بچے کو قتل کرکے اس کی آنکھیں خنجر سے نکال دیں۔ پولیس نے مبینہ جادوگر اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ ان افراد نے بچے کی آنکھیں جلا کر اس کی راکھ کےتعویز بنا دیے تھے۔ لاہور کے علاقے بادامی باغ میں یکم دسمبر کو ایک غریب بیوہ کا سب سے چھوٹا بچہ ابو بکر اغوا ہوگیا تھا۔ نو روز بعد اس کی مسخ شدہ لاش ایک گندے نالے کے کنارے سے ملی۔ بچے کی ماں صغراں بی بی نے اپنےایک رشتہ دار قاسم پر شک کیا جو اغوا کے بعد سے غائب تھا۔ پولیس نے اس نوجوان کو پنجاب کے ایک شہر مظفر گڑھ میں چھاپہ مار کے گرفتار کر لیا۔ پولیس کی تفتیش سے انکشاف ہوا کہ اس نے سمن آباد میں ایک جادوگر کے بھائی اسلم کے کہنے پر اس کے ساتھ ملکر اس بچے کو اغوا کیا اور بد فعلی کے بعد اسے ایک خنجر سے ذبح کر دیا۔ دونوں ملزموں نے اسی خنجر سے بچے کی آنکھیں نکال لیں پھر انہیں پلاسٹک کے ایک لفافے میں بند کر کے سمن آباد لاہور کے ایک مبینہ جادوگرنذر عباس کے حوالے کردیں۔ ڈی ایس پی خالد مسعود نے بتایا کہ قاسم کے انکشاف پر مبینہ جادوگر اور اسے کے بھائی اسلم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ان دونوں ملزمان نے بتایا کہ اس مبینہ جادوگر نے بچے کی آنکھیں جلا کر اس کی راکھ بنا لی تھی۔ وہ جادوگر اس بچے کی آنکھوں کے سرمے سے تعویز بناکر فروخت کر تا تھا۔ بچوں کی آنکھ کے سرمے والا یہ تعویز کم از کم آٹھ ہزار روپے میں فروخت ہوتا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم پہلے موچی ہوا کرتا تھا لیکن پھر اس نے جادوگری کرنا شروع کر دی تھی۔ پولیس نے اس کے ڈیرے پر بھی چھاپہ مارا اور اس کی منتروں والی کتاب کو قبضے میں لے لیا ہے جس میں بچے کی آنکھوں کے سرمے سے تعویز بنانے کی ترکیب لکھی تھی۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مبینہ جادو اور کالے علم کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ چند مہینے پہلے بھی لاہور کے نواحی علاقے مرید کے میں چند بچوں کا سلسلے وار قتل کیا گیا تھا اور پولیس نے بتایا تھا کہ ان بچوں کو جادو کے لیے ہلاک کیا گیا۔ دو تین سال پہلے حکومت نے ان مبینہ جادوگروں کے خلاف ایک آپریشن کیا تھا۔ مبینہ جادوگروں اور نجومیوں کے دفاتر پر چھاپے مار کے انہیں گرفتار کیا گیا اور ان کے اخبارات میں اشتہارات کی اشاعت پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی لیکن دو تین ماہ بعد ہی یہ پابندی بھی ختم ہوگئی تھی اور اشتہارات بھی جاری ہونا شروع ہوگئے ۔اب ان اشتہارات کی تعداد پہلے کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہوچکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||