کراچی:تشدد کی کارروائیاں جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جمعہ کو بھی تشدد کی ایک واردات ہوئی جس میں ایک مذہبی جماعت کے کارکن کو قتل کر دیا گیا۔ دعوت اسلامی کے رکن تحسین اختر کی لاش عزیز آباد کے علاقے میں محمدی مسجد کے عقب سے ملی ہے۔ عزیز آباد پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول غریب آباد کے رہائشی تھے جو جمعرات کو معمول کے مطابق مسجد فیضان مصطفٰے میں دعوت اسلامی کے اجتماع میں شریک ہونے کے لیے گھر سے نکلے تھے کہ قتل ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کے سر میں گولی لگی ہے ۔ تحسین کے بھائی معین الدین نے نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کروایا ہے۔ دوسری جانب گزشتہ رات عزیز آباد میں دو گروہوں میں فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ سنی تحریک کا کہنا ہے کہ ان کے دفتر پر حملہ کیا گیا جس میں ان کے تین کارکن محمد سجاد، محمد یوسف اور ریحان زخمی ہوئے۔ سنی تحریک کے ایک اور اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ان کے کارکنوں کے قتل اور دفتر پر حملوں کے خلاف کل جمعہ کے روز سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ جبکہ تحریک کہ رہنماؤں افتخار بھٹی اور ڈاکٹر قدیر نے ایک پریس کانفرنس میں متحدہ قومی مومنٹ کے رہنماؤں کو مناظرے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آکر ثابت کریں کے انہوں نے کیا زیادتی کی ہے۔ انہوں کہا کہ ایم کیو ایم پر کنٹرول کیا جائے کیونکہ مزید قیمتی جانیں ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ واضح رہے کہ بدھ کی رات کو سُنی تحریک کے تیں کارکن قتل ہوگئے تھے جس کے بعد کراچی میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||