کراچی: مفتی عتیق الرحمان قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں جاری تشدد کی کارروائیوں میں جمعرات کی شب نامعلوم افراد کی فائرنگ میں مفتی عتیق الرحمان قتل اور ان کے بیٹے اورایک ساتھی زخمی ہوگئے۔ جامع بنوریہ کے شیخ الحدیث مفتی عتیق الرحمان رات کو ساڑھے دس بجے اپنے بیٹے عمار اور ساتھی ارشاد کے ہمراہ اپنےگھر واقع سائیٹ ایریا جارہے تھے کہ برنس روڈ پر سندھ سیکریٹریٹ کے عقب میں کار میں سوار نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔ موقع پر موجود افراد کے مطابق مسلح افراد نے مفتی عتیق الرحمان کی سوزوکی گاڑی کو روکا اور فائرنگ کی۔ ہتھیاروں پر سائلینسر لگے ہوئے تھے جس وجہ سے فائرنگ کی آواز سنائی نہیں دی۔ جب لوگوں نے قریب جا کر دیکھا تو تین افراد خون میں لت پت پڑے تھے۔ جن کو سول اسپتال پہنچایا گیا جہاں پہنچنے سے قبل مفتی عتیق نے دم توڑ دیا ۔ جبکہ ان کے بیٹے عمار اور ساتھی مفتی ارشاد کو ہسپتال داخل کردیاگیا۔ مدرسہ بنوریہ کے ترجمان قاری عثمان نے بتایا کہ مفتی عتیق الرحمان گذشتہ کئی برسوں سے برنس روڈ پر واقع مدینہ مسجد میں ہر جمعرات کو درس دینے جاتے تھے اور اس جمعرات کو بھی درس دے کر واپس آرہے تھے کہ مسلح لوگوں نے فائرنگ کر دی۔ جامع بنوریہ کے لوگوں نے مفتی عتیق کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے نہیں دیا۔سول ہسپتال کےڈاکٹر فرحان کے مطابق مفتی عتیق الرحمان کو تین گولیاں لگیں جبکہ ان کے بیٹے عمار کو ایک اور مولانا ارشاد کو تین گولیاں لگیں، جو ساری ٹی ٹی پسٹل سے فائر کی گئیں تھیں۔ مدرسہ بنوریہ کے ترجمان قاری عثمان نے کہا کہ مفتی عتیق الرحمان کا قتل بھی مفتی شامزئی کے قتل کا تسلسل اور فرقہ وارانہ فساد کروانے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کچھ عرصے سے علمائے دین کو قتل کیا جارہا ہے۔ایک سال قبل مفتی نظام الدین شامزئی کا قتل ہوا، پھر مفتی جمیل کا اور اب مفتی عتیق الرحمان کو قتل کیاگیا ہے۔ مفتی عتیق ایک خالص علمی شخصیت تھے۔ ان کا کسی تنظیم سے تعلق نہ تھا۔واضح رہے کہ گذشتہ سال تیس مئی کو مدرسہ بنوریہ کے سرپرست مفتی شامزئی کو قتل کیاگیا تھا۔ علاوہ ازیں صدر ٹاؤن کے علاقے میں ایک ہفتہ قبل سنی تحریک کے تین کارکنان کو بھی قتل کیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||