پولیس کے ہاتھوں چھ افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے نواح میں پولیس نے چھ افراد کو مبینہ طور پرگولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے۔ کاہنہ پولیس نے بی بی سی بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ لوگ ’ڈاکو تھے اور پولیس سے مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے‘۔ پولیس کے مطابق ان افراد نے ایک پولیس سب انسپکٹر کو رات گئے قتل کر دیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کاہنہ کے علاقہ میں رات کو ایک پولیس سب انسپکٹر محمد سلیم مبینہ طور پر کچھ افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا قتل ان ہی لڑکوں نے کیا تھا جو سڑک پر ناکہ لگا کر لوگوں کو لوٹ رہے تھے۔ رات سے پولیس سب انسپکٹر کو ہلاک کرنے کے الزام میں ان لڑکوں کو تلاش کر رہی تھی۔ جمعرات کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے پولیس نے کاہنہ کے قریب ہلوکی گاؤں میں مبینہ طور پر کھیتوں میں چھپے ہوئے ان ملزموں کو گھیرے میں لے لیا اور پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلہ میں چھ افراد ہلاک ہوگئے۔ تھانہ کاہنہ کے ایس ایچ او محمد سرور نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے چھ افراد کی عمریں پچیس تیس سال سے زیادہ ہیں اور ان کا تعلق شیخوپورہ اور شرقپور اور لاہور کے علاقہ ہربنس پورہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس سے سب انسپکٹر سلیم سے لوٹی ہوئی اشیا بھی برآمد ہوئی ہیں جن میں ایک سرکاری رائفل، گھڑی اور دو لوٹی ہوئی موٹر سائکلیں شامل ہیں۔ لاہور میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران میں مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں ایک ہی دفعہ میں اتنی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔ تقریباً پانچ برس پہلے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں چار افراد ایک ساتھ ہلاک ہوئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||