گھوٹکی میں چار ڈاکوؤں کی ہلاکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبے سندھ کے بالائی ضلع گھوٹکی میں چار ڈاکو مارے گئے ہیں ۔ جن کے بارے میں پولیس کا دعوی ہے کہ ان کو مقابلے میں مارا گیا ہے جبکہ علا قے میں یہ اطلاعات ہیں کہ ڈاکوؤں کے دو گروہوں میں تصادم میں چار ڈاکو بھی مارے گئے ہیں۔ ڈی پی او گھوٹکی آغا طاہر کا کہنا ہے کہ پولیس کو کچے کے علاقے گیمڑو میں ڈاکو غلام نبی چاچڑ کے ٹولے کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ گھوٹکی پولیس اور کچھ خانگی لوگ شام کو اس علاقے میں پہنچے تو ڈاکوؤں سے مقابلہ ہوگیا جو سورج ڈھلنے تک جاری رہا۔ ڈی پی او گھوٹکی کا کہنا ہے کہ مقابلہ میں چار ڈاکو مارے گئےہیں۔ جن کی شناخت غلام نبی چاچڑ اس کا بھائی غلام محمد، ایک بھانجا ٹیڈی کے نام سے ہوئی ہے۔ ایک نامعلوم ڈاکو بھی مارا گیا ہے۔ جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ غلام نبی کے سر پر تیس لاکھ روپے انعام تھا ۔ ڈی پی او کے مطابق غلام نبی انیس سو چھانوے میں سکھر جیل سے فرار ہوگیا تھا۔ اس نے ایک سو سے زائد پولیس والوں کو بھی قتل کیا تھا۔ دوسری جانب گھوٹکی میں یہ اطلاعات ہیں کہ ڈاکوں کے آپس میں لڑائی میں غلام نبی اپنے دو رشتہ داروں کے ہمراہ ماراگیا ہے۔ جبکہ نامعلوم ڈاکو دوسرے گروہ کے سربراہ موسی لولائی کا بیٹا شاہنواز ہے۔ ڈی پی او گھوٹکی نے ان اطلاعات کی تردید کی اور کہا کہ ان کا ڈاکوں سے مقابلہ ہوا ہے اور لولائی برداری کے لوگ پولیس کے ساتھی ہیں۔ واضح رہے کہ غلام نبی چاچڑ اور اس کا ڈاکو بھائی قادری چاچڑ گیمڑو میں محکمہ جنگلات کی چار سو ایکڑ زمین پر کاشت کرتے تھے اور ان کو ریٹائر ڈاکو کہا جاتا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||