حملہ آور کی لاش ورثا کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں امام بارگاھ مدینۃ العلم پر خودکش حملے کے دوران پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والی آصف کی لاش بائیس دن کے بعد ورثا کے حوالے کی گئی ہے۔ جبکہ خود کو بم سے اڑانے والے بمبار کی شناخت نہیں ہونے کی وجہ سے لاش ابھی تک سرد خانے میں پڑی ہے۔ گلشن اقبال میں واقع امام بارگاہ مدینۃ العلم پر بائیس دن قبل خود کش حملہ کیا گیا تھا۔ جس میں ایک بمبار نے خود کو بم سے اڑا دیا تھا جبکہ ایک بمبار تحسین کو پولیس نے فائرنگ کرکے زخمی اور آصف کو مار ڈالا تھا۔ اس حملے میں دو نمازی اور ایک ہیڈ کانسٹیبل بھی ہلاک ہوئے تھے۔ آصف کی لاش ایدھی ویلفئیر کے سرد خانے میں پڑی ہوئی تھی ۔ سنیچر کی شام کو آصف کی ماں آمنہ نے سہراب گوٹھ میں واقع ایدھی سرد خانہ پہنچ کر لاش وصول کی ۔ ایدھی کے رضاکاروں کے مطابق آمنہ کا کہنا تھا کہ ان کے پاس تو تدفین کے لیے پیسے بھی نہیں ہیں ۔ ان کے گھر کا واحد کفیل آصف ہی تھا۔ کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن کی رہائشی آصف کی ماں نے اخبار نویسوں کو بتایا ہے کہ آصف کی ہلاکت کا ان کو تیسرے روز علم ہوگیا تھا۔ مگر پولیس کے خوف کی وجہ سے لاش لینے نہیں گئی تھیں ۔آمنہ نے بتایا کہ پولیس نے ’ہمیں حراست میں لے لیا مجھے اور میری بیٹی کو نامعلوم جگہ لے گئے اور آصف کی لاش کی شناخت کروائی‘۔ آصف کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’میرے بیٹے کو ناجانے ان لوگوں نے کس طرح اپنے چنگل میں پھنسا لیا۔ ہم تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے‘۔ آصف کی دو بہنیں اور چار بھائی ہیں جس میں آصف سب سے بڑا تھا۔ وہ زری کا کام کرتا تھا۔ دوسری جانب ایدھی سینٹر کا کہنا ہے کہ دوسرے بمبار کی لاش ابھی تک ان کے پاس پڑی ہوئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ شناخت کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے اس کی تدفین نہ کی جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||