BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 June, 2005, 08:12 GMT 13:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان میں دہشت گردی

بلوچ قبائل
آزاد بلوچستان کے حامیوں پر اس طرح کی کارروائیوں کا الزام لگتا رہتا ہے
صوبہ بلوچستان کے علاقے رکھنی کے قریب نا معلوم افراد نے بجلی کے دو کھمبے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیے ہیں جس سے کوہلو اور بارکھان کو بجلی کی ترسیل منقطع ہو گئی ہے۔

کوئٹہ سے کوئی ساڑھے تین سو کلومیٹر دور مشرق میں حالت کافی عرصہ سے کشیدہ ہیں اور اس طرح کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ رکھنے کے پولیس افسر غفور مری نے بتایا ہے کہ یہ بڑی ٹراسمیشن لائن ہے جو بارکھان گرڈ سٹیشن کی طرف جاتی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ نا معلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد دونوں کھمبوں کے قریب رکھ دیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کارروائی کن لوگوں نے کی ہے اور اس کے کیا مقاصد ہیں۔

لورالائی سے مقامی صحافی امانت حسین نے بتایا ہے کہ اس علاقے میں اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آچکے ہیں۔ کچھ روز قبل اسی علاقے میں ٹیلیفون کے ایک ریپیٹر سٹیشن کو اڑا دیا گیا تھا جبکہ دو ماہ پہلے بارکھان کے قریب بجلی کے کھمبوں پر نا معلوم افراد نے حملے کیے تھے جس سے کوہلو اور بارکھان کو بجلی کی ترسیل منقطع ہو گئی تھی۔ بجلی کی یہ ترسیل کوئی ایک ماہ پہلے بحال ہوئی تھی۔

دریں اثنا ایک نا معلوم شخص نے اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

کچھ روز پہلے ایک اور شخص نے اپنا نام آزاد بلوچ بتایا تھا اور کہا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ دار بلوچستان سے واپس چلے جائیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد