بلوچستان میں دہشت گردی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے علاقے رکھنی کے قریب نا معلوم افراد نے بجلی کے دو کھمبے دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیے ہیں جس سے کوہلو اور بارکھان کو بجلی کی ترسیل منقطع ہو گئی ہے۔ کوئٹہ سے کوئی ساڑھے تین سو کلومیٹر دور مشرق میں حالت کافی عرصہ سے کشیدہ ہیں اور اس طرح کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ رکھنے کے پولیس افسر غفور مری نے بتایا ہے کہ یہ بڑی ٹراسمیشن لائن ہے جو بارکھان گرڈ سٹیشن کی طرف جاتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نا معلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد دونوں کھمبوں کے قریب رکھ دیا تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کارروائی کن لوگوں نے کی ہے اور اس کے کیا مقاصد ہیں۔ لورالائی سے مقامی صحافی امانت حسین نے بتایا ہے کہ اس علاقے میں اس طرح کے واقعات پہلے بھی پیش آچکے ہیں۔ کچھ روز قبل اسی علاقے میں ٹیلیفون کے ایک ریپیٹر سٹیشن کو اڑا دیا گیا تھا جبکہ دو ماہ پہلے بارکھان کے قریب بجلی کے کھمبوں پر نا معلوم افراد نے حملے کیے تھے جس سے کوہلو اور بارکھان کو بجلی کی ترسیل منقطع ہو گئی تھی۔ بجلی کی یہ ترسیل کوئی ایک ماہ پہلے بحال ہوئی تھی۔ دریں اثنا ایک نا معلوم شخص نے اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ کچھ روز پہلے ایک اور شخص نے اپنا نام آزاد بلوچ بتایا تھا اور کہا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ دار بلوچستان سے واپس چلے جائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||