’بلدیاتی انتخابات مؤخر کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بر سر اقتدار اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے ایک سو تیس ارکان قومی اسمبلی نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ایک تحریری درخواست میں اس سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان ارکان نے کہا ہے کہ انتخابات سے پہلے بلدیاتی عہدوں پر فائز افراد کے خلاف مالی بد عنوانیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائی جائیں۔ ان ارکان اسمبلی کا دعویٰ ہے کہ صرف پنجاب کے چونتیس اضلاع میں بلدیاتی سطح پر پانچ ارب روپے کی مالی بد عنوانیاں سامنے آئی ہیں۔ پاکستان کی پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ ملک اللہ یار خان نے ملک اللہ یار نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے کچھ اضلاع جن میں اٹک، جہلم، شیخوپورہ، جھنگ، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان سر فہرست ہیں کے پچاسی ضلعی ناظمین، نائب ناظمین اور تحصیل ناظمین کی مالی بد عنوانیاں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ملک کے خفیہ اداروں نے ایک رپورٹ بھی وفاقی حکومت کو بھجوائی ہے جن میں ان مالی بد عنوانیوں کی تفصیل موجود ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ خفیہ اداروں کی اس رپورٹ کے علاوہ مسلم لیگ اور اتحادی جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے بھی اس سلسلے میں حکومت کو ان کے حلقے کے ناظمین کی مالی بد عنوانیوں سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ تو حکومتی جماعت مسلم لیگ اور اس کے اتحادی کریں گے مگر ارکان قومی اسمبلی کی اکثریت کا موقف یہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کو اکتوبر تک مؤخر کیا جائے اور اس سے قبل جن ناظمین کے خلاف مالی بد عنوانی کے الزامات ہیں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں بلدیاتی سطح پر بد عنوان لوگ سامنے نہ آئیں۔ ان ارکان اسمبلی نے پہلے اسی طرح کی درخواست مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت اور وزیر اعظم شوکت غزیز کو بھی ارسال کی تھی مگر وہاں سے اس بارے میں کسی یقین دہانی نہ حاصل ہونے کے بعد اب یہ درخواست صدر جنرل پرویز مشرف کو ارسال کی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||