BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 June, 2005, 13:31 GMT 18:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’میں نے ہمت نہیں ہاری‘ ثمینہ ناز

خاتون کونسلر
عورت فاونڈیشن کے زیر اہتمام اجلاس میں سرحد کے مختلف اضلاع کی جھبیس خواتین کونسلرز نے شرکت کی
’مرد چاہتے تھے کہ میں پردہ نہ کروں اور منہ نہ چھپاؤں لیکن میں ان سےکہتی تھی کہ میرے چہرے سے آپ کا کیا آپ میرا کام دیکھیں مگر ایسا نہ ہوا اور ابتدا میں باقی سب کی درخواستیں منظور ہوجاتی تھی لیکن میری نہیں‘۔

یہ کہانی ہے صوبہ سرحد کے قدامت پسند علاقے چارسدہ کی ایک خاتون کونسلر ثمینہ ناز کی۔ ثمینہ ناز نے ہمت نہیں ہاری اور چار سال تک کونسلر کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ اب ان کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ پر اعتماد ہیں اور آئندہ چند ماہ میں ملک میں صدر پرویز مشرف کے متعارف کردہ نئے بلدیاتی انتخابات میں دوسری مرتبہ حصہ لینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

پاکستان میں بلدیاتی اداروں نے چار سال کی مدت مکمل کر لی ہے اور اب نئے انتخابات کی امید ہے۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں پہلی مرتبہ خواتین کے لیے تینتیس فیصد نشستیں مخصوص کی گئی تھیں۔ ثمینہ بھی ان چالیس ہزار خواتین میں سے ایک ہیں جو ان نشستوں پر کامیاب ہوکر میدان میں آئیں۔

لیکن کئی ناقدین کے خیال میں اس سہولت سے خواتین بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکیں جبکہ اس کے حامی اتنی بڑی تعداد میں خواتین کا میدان میں آنے ہی کو ان کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

پشاور کے ایک ہوٹل میں غیرسرکاری تنظیم عورت فاونڈیشن کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں سرحد کے مختلف اضلاع کی خواتین کونسلرز کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ تین روز تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں پشاور، چارسدہ، مردان اور نوشہرہ کی چھبیس کونسلروں نے ان چار برسوں کے دوران اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں پر مشتمل اپنے تجربات سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا۔ ان تجربات کو عورت فاونڈیشن کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ان تجربات میں چند مردوں کا غیرمناسب رویہ بھی شامل رہا۔ چارسدہ کی ثمینہ ناز نے بتایا کہ ابتدا کے مشکل دور میں اس کی بھرپور مدد بھی ایک مرد یعنی ان کے شوہر نے کی۔ ’میں ہر کام ان کے مشورے سے کرتی تھی۔ ان کی سپورٹ نے ہی مجھے چار سال مکمل کرنے پر آمادہ رکھا۔ اب میرا کام دیکھ کر علاقے کی کئی اور عورتیں بھی آگے آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔’

ثمینہ ناز کے تلخ تجربات سے قطع نظر ان چار برسوں میں کئی خواتین کونسلروں نے بہت کچھ حاصل بھی کیا۔ نوشہرہ کی نگار روف نے اپنے علاقے کی خواتین کے لیے حاصل کیےگئے منصوبوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ان کے لیے ہنر سکھانے کا ایک مرکز کھولا جس میں وہ ناخواندہ عورتوں کو سلائی کڑھائی کے علاوہ تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ گلیاں اور نالیاں پختہ کرنے کے منصوبے انہوں نے الگ مکمل کرائے ہیں۔

سن دو ہزار کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی بھرپور نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کئی تنظیموں نے کافی فعال تحریکیں چلائیں۔ ان میں عورت فاونڈیشن بھی پیش پیش تھی۔

اس تنظیم کی علاقائی سربراہ رخشندہ ناز سے پوچھا کہ ان چار برسوں کو وہ کس نظر سے دیکھتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ نتائج ملے جلے رہے۔ تاہم وہ اس تاثر سے قطعاً متفق نہیں تھیں کہ یہ نمائندگی صرف دکھاوے کی حد تک تھی۔

’سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ صوبہ سرحد جیسے علاقوں میں عورتیں سامنے آئیں جس کی لوگوں کو بلکل بھی توقع نہیں تھی۔ قدامت پسندی اور کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بائیکاٹ کے باجود تراسی فیصد عورتیں منتخب ہوئیں جوکہ بڑی بات ہے‘۔

رحشندہ کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں عورتوں کے منتخب ہونے کے بعد قدامت پسند قوتیں دوبارہ فعال ہوئیں اور انہوں نے کہا کہ وہ ان خواتین کو اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس سے بعض علاقوں میں یقیناً عورتیں کونسل کی عمارت تک بھی کبھی نہیں آئیں۔

آنے والے انتخابات میں انہوں نے اپنے لیے کیا اہداف سامنے رکھے ہیں اس بارے میں رخشندہ کا کہنا تھا کہ ان کے لیے دو بڑے چیلنج ہیں۔ ’ایک تو ان عورتوں کو بتانا کہ انہیں سماجی دباؤ، کوئی ذاتی مالی فائدہ نہ ہونا اور مخالفتوں کے باوجود ڈٹے رہنا ہے۔ دوسرا لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ منتخب ہونے سے ان کے گھروں میں تنخواہ وغیرہ آنا نہیں شروع ہوگی بلکہ اس سے آپ کی برادری کو اصل فائدہ ہوگا۔‘

انہوں نے بتایا کہ پچھلی مرتبہ ایسے لوگ بھی آئے کہ انہوں نے گھروں سے اپنی نوکرانیوں تک کو کھڑا کر دیا اس لالچ میں کہ ان کی تنخواہ وہ خود اینٹھ لیں گے۔

ملک میں بلدیاتی اداروں میں عورتوں کے لیے مخصوص چالیس ہزار نشتوں میں سے سب سے زیادہ خالی رہ جانے والی نشستیں صوبہ سرحد سے ہی رہیں۔ تاہم جو آگے آئیں وہ اب مزید آگے بڑھنے کی ٹھانے ہوئے ہیں۔

ثمینہ ناز کہتی ہیں کہ مردوں کے ناروا سلوک کے باوجود وہ ہمت ہر گز نہیں ہاریں۔ ’پہلے میں مردوں سے بات تو درکنار ان سے دور بھاگتی تھی۔ اب انشاء اللہ کافی پراعتماد ہوں ان سے ہرگز نہیں ڈرتی۔ یہ طاقت مجھے غریبوں کے لیے کچھ کرنے کے جذبے نے دی ہے‘۔

گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں خواتین کو یقینا پہلا قدم لینے کا موقعہ ملا۔ آنے والے انتخابات میں خیال ہے کہ وہ ثمینہ کی طرح اب زیادہ پراعتماد طریقے سے آگے بڑھ پائیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد