BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات: اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد

News image
گزشتہ انتخابات میں بھی کئی اضلاح میں اپوزیشن پارٹیاں مشترکہ امیدوار لائی تھیں
لاہور میں حزب اختلاف کی تین جماعتو ں اور ایک اتحاد نے مقامی انتخابات میں نشتسوں پر سمجھوتے کے ذریعے متفقہ امیدوار لانے کا اعلان کیا ہے۔

ملک کی ایک سو دس ضلعوں میں یونین کونسلوں کے لیے دو مرحلوں میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا ہے، چون ضلعوں میں اٹھارہ اگست کو اور چھپن ضلعوں میں پچیس اگست کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پہلے مرحلہ کے لیے آج سے پشاور، کراچی، ملتان اور گوجرانوالہ کے شہری ضلعوں سمیت چون ضلعوں میں امیدواروں کےکاغذات نامزدگی داخل کرانے کا شروع ہوگیا ہے۔

آج لاہور میں مسلم لیگ(نواز) کے مرکزی دفتر میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ(ن)، متحدہ مجلس عمل اور تحریک انصاف کے قائدین نے ایک اجلاس میں پنجاب میں حکومت امیدواروں کے مقابلہ میں مشترکہ امیدوار لانے کے لیے ایک دوسرے سے نشستوں پر سمجھوتہ کرکے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ہر ضلع میں ساری پارٹیوں کے ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریوں پر مشتمل کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو اس ضلع میں مشترکہ امیدواروں کا فیصلہ کریں گی اور انتخابی عمل کی نگرانی کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی پارٹی کا کوئی رکن مشترکہ امیدوار کے مقابلہ میں کھڑا ہوگا تو وہ پارٹی اس کے خلاف کاروائی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ نشستوں کی تقسیم کا کوئی فارمولا طے نہیں کیا گیا بلکہ نشستوں کی ایڈجیشٹمینٹ کا کام ضلعی کمیٹیاں کریں گی اور ان میں کوئی اختلاف ہوا تو صوبائی سطح پر معاملہ حل کیا جائے گا۔

پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر قاسم ضیاء، جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا امجد، مسلم لیگ(ن) کے ذوالفقار کھوسہ اور تحریک انصاف کے ایڈمرل (ر) جاوید اقبال دیگر رہنماوں کے ہمراہ اس اجلاس میں شریک ہوئے۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان نوید چودھری نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امیدواروں کے لیے نشانوں کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں سرکاری پارٹیوں مسلم لیگ(ق) کو گزشتہ انتخابات میں جاری کیا جانے والا نشان سائیکل اور ایم کیو ایم کو دیا جانے والا نشان پتنگ شامل ہیں جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے روایتی انتخابی نشان شامل نہیں۔

انہوں نے کہا اس طرح یہ الیکشن حکومت جماعتوں کے لیے جماعتی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیے غیر جماعتی بنیادوں پر ہورہے ہیں اور حکومت الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد